دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2619 -[2]

وَعَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ نے جمرہ کو ٹھیکری کے برابر کنکروں سے رمی کیا ۱؎ (مسلم)

۱؎ اس کی شرح ابھی گزر چکی کہ یہ کنکر باقلا کے دانہ سے لے کر چھوہارے کی گٹھلی یا انگلی کے پورے کے برابر ہوں اور بہتر یہ ہے کہ اسے کلمہ کی انگلی پر رکھ کر انگوٹھے کے سرے سے پھینکے مگر اب یہ کثرت ہجوم کی وجہ سے مشکل ہے۔

2620 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ قَالَ: رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بقر عید کے دن دوپہر کے وقت جمرہ کی رمی کی مگر اس کے بعد سورج ڈھل جانے پر ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دسویں ذی الحجہ کو زوال سے پہلے رمی کرلے اور گیارھویں بارہویں کو زوال کے بعد،فتح القدیر میں ہے کہ ان دو تاریخوں میں زوال سے پہلے رمی کا وقت ہوتا ہی نہیں،ہاں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ایک غیر مشہور سی روایت ہے کہ ان دو دنوں میں زوال کے بعد رمی افضل ہے اور پہلے بھی جائز۔بخاری شریف میں عبداﷲ ابن عمر سے روایت ہے کہ ہم تمام صحابہ سورج ڈھلنے کا انتظارکرتے تھے،ڈھلنے پر رمی کرتے تھے،امام ماوردی نے اس جگہ مسئلہ اجماع بیان فرمایا،تیرھویں ذی الحجہ کو بالاتفاق زوال سے پہلے بھی جائز ہے۔

2621 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى فَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے کہ وہ بڑے جمرہ پر پہنچے تو بیت اﷲ کو اپنے بائیں اور منٰی کو اپنے دائیں رکھا اور سات کنکریاں ماریں ۱؎ کہ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے پھر فرمایا اسی طرح انہوں نے رمی کی جن پر سورۂ بقرہ اتری ۲؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ آپ نے جمرہ عقبہ کی اس رخ پر کھڑے ہوکر رمی کی اور باقی جمرہ کی روبقبلہ ہوکر،یہی ہمارے ہاں مستحب ہے جمہور کا یہی قول ہے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،بعض کے نزدیک ہر جمر ہ کی رمی رو بقبلہ ہوکر کی جائے،امام شافعی کے ہاں جمرہ عقبہ کی رمی کعبہ کو پشت کر کے کی جائے،یہ حدیث ان سب کے خلاف ہے۔

۲؎  ساتھ سے مراد متصل ہے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ ہرکنکری کے بعد تکبیر کہی، رب تعالٰی بلقیس کا قول نقل فرماتا ہے"اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ"یہاں بھی معیت سے اتصال مراد ہے،سیدنا عبداﷲ ابن عمر ہر کنکر پر یہ پڑھتے تھے "اَﷲُ اَکْبَر اَﷲُ اَکْبَر اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا وَ عَمَلًا مَشْکُوْرًا"اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا،چونکہ ارکان حج زیادہ سورۂ بقر میں ہیں اس لیے سورۂ بقر کا ذکر کیا ورنہ حضور پر سارا ہی قرآن اترا ہے۔

2622 -[5]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الِاسْتِجْمَارُ تَوٌّ وَرَمْيُ الْجِمَارِ توٌّ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ وَالطَّوَافُ تَوٌّ وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ».رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے استنجا طاق بار ہے ۱؎ جمروں کی رمی طاق بار اور صفا مروہ کے درمیان دوڑنا طاق بار اور طواف طاق بار۲؎ اور جب تم میں سے کوئی ڈھیلے لے تو طاق بار۳؎ (مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن