دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2617 -[14]

وَعَن ابنِ شهابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ: كَيْفَ نَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: وَهل يتَّبعونَ فِي ذلكَ إِلا سنَّتَه؟ رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت حضرت ابن شہاب سے فرماتے ہیں مجھے سالم نے خبر دی کہ جس سال حجاج ابن یوسف نے حضرت زبیر پر حملہ کیا ۱؎ تو اس نے حضرت عبداﷲ سے پوچھا کہ ہم عرفہ کے دن قیام گاہ میں کیا کریں سالم نے فرمایا کہ اگر تو سنت پر عمل چاہتا ہے تو عرفہ کے دن نماز ظہر دوپہری میں ہی پڑھ ۲؎ اس پر عبداﷲ ابن عمر نے فرمایا یہ سچے ہیں صحابہ کرام بطریق سنت ظہر و عصر جمع کر کے پڑھتے ۳؎ تھے تو میں نے سالم سے پوچھا کہ کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی یہ عمل کیا ہے تو سالم نے فرمایا کہ صحابہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہی کی پیروی کرتے تھے۴؎(بخاری)

۱؎  ابن شہاب امام زہری کی کنیت ہے اور سالم عبداﷲ ابن عمر کے فرزند ہیں،حجاج ابن یوسف ثقفی مشہور ظالم حاکم گزرا ہے جو عبدالملک ابن مروان کی طرف سے حجاز کا گورنر تھا،اس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار آدمی باندھ کر قتل کرائے۔ (مرقات)جو جنگوں میں مارے گئے وہ اس کے علاوہ ہیں،اس نے عبداﷲ ابن زبیر پر حملہ کیا تھا جو کہ مکہ مکرمہ اور عراق کے بادشاہ بن چکے تھے انہیں سولی دی،عبدالملک نے اسی سال اسے حکم دیا تھا کہ تو حج پر جا اور عبداﷲ ابن عمر کی پیروی کر،ہر کام ان سے پوچھ کر کرنا،کسی کام میں ان کی مخالفت نہ کرنا تب اس نے آپ سے پوچھا۔

۲؎  یعنی روزانہ ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھتے ہیں مگر نویں ذی الحجہ عرفات میں دوپہری میں زوال ہوتے ہی پڑھ لو۔

۳؎ یعنی عرفہ میں دو کام نئے ہوں گے:ایک ظہر جلدی پڑھنا،دوسرے ظہر کے وقت میں عصر پڑھنا۔

۴؎ یعنی ابن شہاب(امام زہری)نے حضرت سالم سے پوچھا کہ عرفات میں ظہر جلد پڑھنا اور عصر و ظہر ملا کر پڑھنا صرف صحابہ کا اپنا اجتہادی عمل تھا یا سنت رسول اﷲ بھی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ سنت ہے۔خیال رہے کہ حضرت سالم اور حضرت عبداﷲ ابن عمر کا اس موقعہ پر صحابہ کا عمل پیش فرمانا اس لیے تھا کہ حجاج ظالم کو انکار کی گنجائش نہ رہے۔عمل عام کی مخالفت آسان نہیں ہوتی،سیدنا عبداﷲ ابن عمر کو حجاج ہی نے ایک حیلہ سے شہید کرادیا کہ آپ کے پاؤں شریف میں زہر آلودہ برچھی بہانہ سے چبھوادی،علیہ ماعلیہ۔(مرقات)


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن