دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2610 -[7]

وَعَن الفضلِ بن عبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا: «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةَ» . وَقَالَ: لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے وہ حضرت فضل ابن عباس سے راوی وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ردیف تھے کہ حضور انور نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کے سویرے جب لوگ روانہ ہوئے تو ان سے فرمایا سکون اختیار کرو حضور خود بھی اپنی اونٹنی کی لگام کھینچے ہوئے تھے ۱؎ حتی کہ وادی محسر میں داخل ہوگئے جو منٰی کا ہی حصہ ہے ۲؎  فرمایا کنکریاں چن لو ٹھیکریوں کی طرح جن سے جمرہ کو مارا جائے ۳؎ اور فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جمرہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔(مسلم)

۱؎ یعنی ان دونوں روانگیوں میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حجاج کو اطمینان سے آہستہ چلنے کا حکم دیا عرفہ سے مزدلفہ آتے وقت اور پھرصبح کو مزدلفہ سے منٰی آتے وقت اگر یہ اطمینان نہ ہو تو بہت لوگ کچل کر مرجائیں،اب تو بسیں چلتی ہیں مگر وہ بھی دو تین میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پھر بھی ٹھہرتی ہوئی۔

۲؎ یہ راوی کی تفسیر ہے علماء کے اس کے متعلق مختلف خیال ہیں۔بعض کے نزدیک یہ منٰی میں داخل ہے بعض کے خیال میں مزدلفہ میں  بعض کہتے ہیں کہ یہ ان دونوں کے درمیان برزخ ہے،یہ تیسرا قول ہی قوی ہے اور اس جملے کے معنی یہ ہیں کہ وہ منٰی سے قریب ہے۔ (لمعات،اشعہ و مرقات)منٰی جمرہ عقبہ سے وادی محسر تک کے علاقہ کا نام ہے اس طرح یہ دونوں حدود منٰی سے خارج ہیں۔(مرقات)

۳؎  خذف چٹکی سے پھینکنے کو کہتے ہیں پھرٹھیکری کو کہنے لگے کہ وہ چٹکی سے ہی پھینکی جاتی ہے ان کنکروں کی مقدار باقلا کے دانہ کے برابر چاہیے۔بہتر یہ ہے کہ وادی محسر سے چنے جائیں اگر مزدلفہ سے ہی چن لیے گئے تب بھی جائز ہے ستر۷۰ کنکر لیے جائیں جو سات دسویں ذی الحجہ کو کام آویں اور ۶۳ گیارہویں،بارہویں،تیرھویں کو کیونکہ آج صرف جمرہ عقبہ کی رمی ہوگی،ان تواریخ میں تینوں جمروں کی ہر جمرہ پر سات کنکر،بعض بے وقوف بڑے بڑے پتھر بلکہ جوتے مارتے ہیں اور شیطان کو گالیاں دیتے جاتے ہیں،یہ جہالت ہے،خیال رہے کہ یہاں جمرہ سے مراد جنس جمرہ ہے۔

2611 -[8]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَقَالَ: «لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا». لَمْ أَجِدْ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الصَّحِيحَيْنِ إِلَّا فِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ مَعَ تقديمٍ وَتَأْخِير

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مزدلفہ سے یوں روانہ ہوئے کہ آپ پر نہایت سکون و اطمینان تھا اور لوگوں کو بھی سکون کا ہی حکم دیا اور وادی محسر میں سواری کچھ تیز کی ۱؎  اور انہیں حکم دیا کہ ٹھیکریوں کی سی کنکریوں سے رمی کریں اور فرمایا شاید تمہیں اس سال کے بعد نہ دیکھوں گا۲؎ میں نے یہ حدیث مسلم،بخاری میں نہ پائی صرف ترمذی میں پائی وہ بھی کچھ تقدیم و تاخیر سے۳؎

۱؎ یعنی مزدلفہ سے منٰی تک کا بقیہ راستہ تو آہستگی سے طے فرمایا مگر یہ مقام قدرے تیزی سے،اس کی وجہ پہلے بیان کی جاچکی ہے مگر یہ تیزی بھی ایسی نہ تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہو اسی لیے اوضع فرمایا،ایضاع کے معنی ہیں جانور کو ایڑھ لگانا تاکہ وہ قدرے تیز ہوجائے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن