دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۳؎ یعنی اس جگہ اونٹ دوڑانا ثواب نہیں بلکہ خطرہ ہے کہ گناہ بن جائے کہ ہجوم زیادہ ہے تیز دوڑانے میں حجاج کے کچل جانے چوٹ کھا جانے کا خطرہ ہے،بلکہ ثواب تو اطمینان سے اراکان ادا کرنے میں ہے،اب بھی حجاج کو چاہیے کہ وہ بھاگ دوڑ سے بچیں۔

2606 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زِيدٍ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنًى فَكِلَاهُمَا قَالَ: لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَة الْعقبَة

روایت ہے ان ہی سے کہ حضرت اسامہ ابن زید عرفہ سے مزدلفہ تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ردیف (پیچھے سوار)رہے پھرحضور انور نے مزدلفہ سے منٰی تک حضرت فضل کو پیچھے بٹھالیا ۱؎ ان دونوں صاحبوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جمرہ عقبہ کو کنکر مارنے تک تلبیہ کہتے رہے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ خلاصہ یہ ہے کہ عرفات سے منیٰ تک دو حضرات کو آگے پیچھے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہمرکابی کی سعادت میسر ہوئی، عرفات سے مزدلفہ تک حضرات اسامہ ابن زید ابن حارث رضی اللہ عنہ حضور انور کے ساتھ حاضر تھے اور مزدلفہ سے منٰی تک حضرت فضل ابن عباس کو اس کا شرف ملا،چونکہ حضور انور کی ہمرکابی اعلٰی درجہ کا شرف ہے،نیز اس قرب سے حضور کے اعمال طیبہ بخوبی معلوم ہوسکتے ہیں اس لیے یہ واقعہ بیان فرمایا۔

۲؎ معلوم ہوا کہ حج کا تلبیہ دسویں ذی الحجہ رمی جمرہ عقبہ تک رہتا ہے یہاں پہلا کنکر مارتے ہی تلبیہ ختم ہوجاتا ہے۔

2607 -[4]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَلَا عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مزدلفہ میں مغرب و عشاء جمع کرکے پڑھیں ۱؎ کہ ان میں سے ہر نماز علیحدہ تکبیر سے ادا کی اور نہ ان کے درمیا ن نفل پڑھے اور نہ ان میں سے کسی نماز کے پیچھے ۲؎(بخاری)

۱؎  اس طرح کہ مغرب عشاء کے وقت میں پڑھی کہ وہاں آج مغرب کا وقت یہ ہی ہے،اگر کوئی عرفات میں یا راستہ میں نماز مغرب پڑھ بھی لے گا تو نہ ہوگی کہ اس نے وقت سے پہلے پڑھ لی۔ خیال رہے کہ عرفات شریف میں تو عصر اپنے وقت سے آگے پڑھتے ہیں کہ ظہر کے وقت میں پڑھی جاتی ہے اس لیے وہاں دونوں نمازوں کے لیے تکبیریں بھی دو ہوں گی اور جو حاجی جماعت امام کے ساتھ پڑھے گا وہ ہی جمع صلوتین کرے گا مگر مزدلفہ میں نمازمغرب پیچھے ہٹ گئی کہ عشاء کے وقت میں پڑھی گئی تو خواہ باجماعت نماز پڑھے یا علیحدہ اور خواہ امام کے ساتھ جماعت پڑھے یا اپنی جماعت علیحدہ کرے،بہرحال جمع صلوتین کر ے گا۔خلاصہ یہ ہے کہ عرفات میں دونوں نمازوں کے لیے اذان ایک اور اقامت دو ہوں گی۔

۲؎ یہ مذہب امام زفر کا ہے کہ مزدلفہ میں بھی مغرب و عشاء دو تکبیروں سے پڑھے ان کی دلیل یہ حدیث ہے،باقی آئمہ فرماتے ہیں کہ یہاں اذان بھی ایک ہوگی اور تکبیر بھی ایک،ان کی دلیل وہ احادیث ہیں جو مسلم شریف نے حضرت سعید ابن جبیر سے اور ابن ابی شیبہ نے حضرت جابر سے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں ایک اذان ایک اقامت سے دونوں نمازیں پڑھیں وہ احادیث مطابق قیاس ہیں اور یہ حدیث بخاری خلاف قیاس لہذا ان روایات کو ترجیح ہے کیونکہ تکبیر لوگوں کو جمع کرنے کے لیے ہوتی ہے لوگ پہلی اذان و تکبیر پر جمع ہوچکے ہیں اور نماز عشاء کا وقت بھی ہے تو ظاہر ہے کہ بغیر عشاء پڑھے نہ متفرق ہوں گے مگر عرفات میں ظہر اپنے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن