30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2597 -[6] وَعَن خالدِ بنَ هَوْذَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرٍ قَائِمًا فِي الركابين. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت خالد ابن ہوذہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ عرفات میں اونٹ پر دو رکابوں کے درمیان کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یہ خطبہ حج ہے جو نویں بقرعید کو عرفات میں دیا جاتاہےجس میں عرفات سے چلنے،مزدلفہ میں ٹھہرنے،منٰی میں قربانی اور طواف زیارت وغیرہ کے احکام سکھائے جاتے ہیں۔قَائمًا بمعنی وَاقِفًا ہے،یہ مطلب نہیں کہ آپ اونٹ پر کھڑے ہوئے تھے کہ یہ تو بہت مشکل ہے،مطلب یہ ہے کہ آپ وقوف عرفات اونٹ پر کررہے تھے۔فِی الرِّکَابَیْنِ کے معنی یہ ہیں کہ دونوں قدم شریف رکاب میں رکھے ہوئے تھے،چونکہ وہاں منبر تھا نہیں اور منشاء یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں سے اونچے رہیں تاکہ دور تک کے لوگ آپ کی زیارت بھی کرسکیں اور آپ کا کلام شریف بھی سن سکیں،اس لیے یہ خطبہ اونٹ پر دیا،اب بھی عرفات شریف میں امام اونٹ پر خطبہ دیتا ہے۔
|
2598 -[7] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الدُّعَاءِ دُعَاءُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَخَيْرُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْء قدير ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ 2599 -[8] وروى مالكٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ: «لَا شريك لَهُ» |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا عرفہ کے دن کی دعاؤں میں سے بہترین ۱؎ اور جو ہم نے اور ہم سے پہلے نبیوں نے عرض کیا ان میں سے بہترین عرض یہ ہے کہ اﷲ اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کا ملک ہے،اسی کی تعریف اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۲؎(ترمذی)اور مالک نے حضرت طلحہ ابن عبیداﷲ سے لاشریك لہ تک روایت کی۔ |
۱؎ کیونکہ اس دن کی دعا جلد قبول ہوتی ہے اور اس پر مانگنے سے زیادہ ملتا ہے،ثواب دعا اس کے علاوہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نویں بقرعید کی دعا بہترین عمل ہے خواہ کہیں مانگی جائے،اگر حج میسر ہو اور میدان عرفات میں مانگی جائے تو زہے نصیب ورنہ اپنے گھر یا مسجد وغیرہ جہاں ہوسکے مانگے،یہ دن غفلت میں نہ گزار دے اسی لیے سمجھ دار لوگ نویں بقر عید کو روزہ رکھتے ہیں،عبادات و دعاؤں میں مشغول رہتے ہیں اس دن کو لہو و لعب میں نہیں گزارتے۔
۲؎ اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ اس دن صرف دعا ہی نہ مانگے بلکہ رب تعالٰی کی حمد و ثنا ء بھی کرے کہ اﷲ کے ذکر سے دل کو چین اور قرار ہے اور ذکروں میں بہترین ذکر یہ ہے کہ اس میں رب تعالٰی کی اعلٰی درجہ کی حمد و ثناء ہے اور سنت انبیاء پرعمل بھی یعنی ذکر اور زبان دونوں کی تاثیریں جمع ہیں اسی لیے لوگ دعائے ماثورہ جو بزرگوں سے منقول ہوں زیادہ پڑھتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ تمام دعاؤں میں بہترین دعا یہ ہے کہ کیونکہ حق تعالٰی کی حمد و ثنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پردرود کہنا یہ دعا ہے، حدیث قدسی میں ہے کہ جسے میرا ذکر دعا مانگنے سے روک دے تو اسے میں مانگنے والوں سے زیادہ دوں گا،نیز اس میں رضاء بالقضاء علے وجہ الکمال ہے،شاعرکہتا ہے۔شعر
وَکَلْتُ اِلَی الْمَحْبُوْبِ اَمْرِیْ کُلَّہٗ فِاِنْ شَاءَ اَحْیَانِیْ وَاِنْ شَاءَ اَتْلَفَ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع