30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
موت بمعنی نیند ہے اور احیاء بمعنی بیداری،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اَوَ مَنۡ کَانَ مَیۡتًا فَاَحْیَیۡنٰہُ"اور فرماتا ہے:"اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی"ان دونوں آیتوں میں موت سے مراد جہالت ہے اور میت سے مراد جاہل و کافر۔(مرقات و لمعات)
|
2384 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أرفعه إِن أَمْسَكت نَفسِي فارحمهما وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَابِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ ". وَفِي رِوَايَةٍ:"ثُمَّ لْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمن ثمَّ ليقل: بِاسْمِك"وَفِي رِوَايَةٍ:«فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ ثَوْبِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَإِن أَمْسَكت نَفسِي فَاغْفِر لَهَا» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر جائے تو اپنے تہبند کے داخلی پلو سے بستر جھاڑ دے ۱؎ اسے کیا خبر کہ بستر پر کیا چیز پڑی ہے۲؎ پھر کہے یارب میں تیرے نام پر اپنا پہلو رکھ رہا ہوں ۳؎ اور تیرے نام پر ہی اٹھاؤں گا۴؎ اگر آج میری جان تو قبض کرے تو اس پر رحم فرمانا ۵؎ اور اگر واپس بھیجے تو اس کی اس ہی سے حفاظت فرمانا جس سے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۶؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر اپنے داہنی کروٹ پر لیٹ جائے پھر کہے بِاسْمِكَ،الخ (مسلم،بخاری)۷؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر اپنے کپڑے کے پلو سے بستر تین بار جھاڑے ۸؎ اور یوں کہے کہ اگر تو میری جان قبض فرمالے تو اسے بخش دیجیو۔ |
۱؎ عرب شریف میں دن و رات بستر بچھے ہی رہتے تھے،ہمارے ملک کی طرح صبح کو سمیٹے نہ جاتے تھے،اور اس زمانہ میں تہبند ہی پہنے جاتے تھے اس لیے فرمایا جارہا ہے کہ جب سونے کے لیے بستر پر جاؤ اور کوئی فالتو کپڑا نہ ہو تو تہبند کے پلے سے ہی بستر جھاڑ دو پھر لیٹو۔
۲؎ گردو غبار،کانٹا،ہڈی یا کوئی موذی جانور،نجاست وغیرہ لہذا اس جھاڑ لینے میں جان و ایمان دونوں کی امن ہے،یہ حکم استحبابی ہے۔
۳؎ یعنی بستر جھاڑ کر داہنی کروٹ پر لیٹ جائے پھر لیٹ کر یہ کہے جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔
۴؎ یعنی تیرا نام لے کر سوتا ہوں اور تیرا نام لے کر اٹھوں گا،دکانِ زندگی بند بھی تیرے نام پر کررہا ہوں اور تیرے نام پر ہی کھولوں گا،میں کسی وقت نہ تجھ سے لاپراہ ہوں نہ تجھ سے غافل،اﷲ یہ قال بھی نصیب کرے اور یہ حال بھی۔
۵؎ اس طرح مجھے بخش دینا اور میری معمولی نیکیاں قبول فرمالینا،چونکہ نیند بھی ایک طرح کی موت ہی ہے جس کے بعد بیداری موہوم ہے یقینی نہیں اس لیے دعا کرکے سونا بہت مناسب ہے۔
۶؎ یعنی اگر تو مجھے اپنے فضل و کرم سے دوبارہ زندگی بخشے کہ بیدار کردے۔تو جیسے کہ اپنے نیک بندوں کو نفس و شیطان،برے عقیدے واعمال سے بچائے رکھتا ہے مجھے بھی ان چیزوں سے بچانا۔خلاصہ یہ کہ جسم کی حفاظت کے ساتھ روح کی حفاظت بھی فرمانا۔
۷؎ بہتر یہ ہے کہ پہلے داہنی کروٹ پر لیٹے،پھر چت،پھر بائیں پر،پھر دوبارہ داہنی کر وٹ لیٹ کر سوجائے کہ داہنی کر وٹ پر سونے سے غفلت زیادہ نہیں ہوتی،وقت پر آنکھ کھلتی ہے کیونکہ دل بائیں طرف ہے داہنی کروٹ پر لیٹنے سے دل معلق رہتا ہے۔یہ فرق ہمارے لیے ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کسی کروٹ پر لیٹیں آپ کو غفلت آتی ہی نہیں،یہ عمل بہت مفید ہے۔(مرقاۃ)
۸؎ یہ جھاڑنا لیٹنے سے پہلے ہے نہ کہ لیٹ جانے کے بعد۔کپڑے سے مراد چادر،رومال یا تہبند ہے،اس جھاڑ نے کی حکمتیں پہلے بیان ہوچکی ہیں،یہ حکم استحبابی ہے۔
|
2385 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ نَامَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَهُنَّ ثُمَّ مَاتَ تَحْتَ لَيْلَتِهِ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ»وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: " يَا فُلَانُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفَسِي إِلَيْكَ إِلَى قَوْلِهِ: أَرْسَلْتَ " وَقَالَ: «فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وإِن أصبحتَ أصبتَ خيرا» |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب اپنے بستر پر جاتے تو اپنی داہنی کروٹ پر لیٹتے پھر یوں کہتے الٰہی میں نے اپنی جان تیرے سپرد کی اور اپنا چہرہ تیری طرف متوجہ کیا ۱؎ اور اپنا کام تیرے سپرد کیا تیرے کرم پر ٹیک لگائی تیری طرف رغبت کرتے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے ۲؎ تجھ سے نہ کہیں پناہ ہے نہ رہائی سواء تیری طرف کے ۳؎ میں تیری اتاری کتاب پر اور تیرے بھیجے ہوئے رسول پر ایمان لایا ۴؎ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو یہ کلمات کہہ لے پھر اسی رات مرجائے تو ایمان پر مرے گا ۵؎ اور ایک روایت میں ہے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ اے فلاں جب تو اپنے بستر پر جائے تو نماز کا سا وضو کرے ۶؎ پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے پھر کہے الٰہی میں نے اپنے کو تیرے سپرد کیا،آخر کلام ارسلت تک۷؎ اور فرمایا کہ اگر تم اسی رات میں مر گئے تم اسلام پر مرو گے اور اگر تم صبح پاؤ گے تو بہت بھلائی حاصل کرو گے۸؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع