30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سنگ اسود ہمارے دلوں کے اخلاص و نفاق کو بھی جانتا ہے کہ کون اخلاص سے چوم رہا ہے اور کون نفاق سے۔چھٹے یہ کہ سنگ اسود حاجیوں کے اچھے برے خاتمہ کو جانتا ہےکہ کون ایمان پر مرا اور کون کفر پر،تب ہی تو وہ مؤمن مخلص کی شفاعت کرے گا مرتد منافق کی شفاعت نہ کرے گا۔جب ایک پتھر کے علم و نفع کے یہ حال ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم جن کو رب نے سید الخلق بنایا ان کے علوم کا کیا پوچھنا،جو لوگ حضور انور کے لیے علوم خمسہ نہیں مانتے وہ اس حدیث میں غور کریں۔
|
2579 -[19] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرُّكْنَ وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ طَمَسَ اللَّهُ نورَهما وَلَو لم يطمِسْ نورَهما لأضاءا مَا بينَ المشرقِ والمغربِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ رکن اسود اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے یاقوت ہیں جن کی روشنی اللہ نے چھپالی ہے ۱؎ اگر ان کی روشنی نہ چھپاتا تو یہ پورب و پچھم کے درمیان کو جگمگا دیتے ۲؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی ان دونوں جنتی یاقوتوں کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے ان کا اصل نور چھپا لیا گیا تاکہ جنت پر ایمان بالغیب رہے،حجر اسود اور مقام ابراہیم دونوں ہی جنت کے جواہرات میں سے ہیں۔
۲؎ اور ان کی جگمگاہٹ سورج کو خیرہ کردیتی،سنگ اسود کو کفار قرامطہ اٹھالے گئے تھے،انہوں نے مکہ معظمہ میں اتنا قتل و خون کیا تھا کہ حرم شریف اور چاہ زمزم لاشوں سے بھر گیا تھا،حجر اسود سے بولے کہ تو ہی شرک کا سرچشمہ ہے خدا کے سواء تو کب تک بنا رہے گا، پچیس سال تک یہ ان کے قبضہ میں رہا،پھر مکہ والوں نے انہیں بہت سا مال دے کر سنگِ اسود مانگا،وہ بولے کہ وہ پتھر دوسرے پتھروں سے مخلوط ہوگیا ہے آؤ پہچان کر لے جاؤ،مکہ معظمہ کے علماء نے کہا کہ جس پتھر پر آگ اثر نہ کرے وہ سنگ اسود ہے کیونکہ جنتی چیز میں آگ اثر نہیں کرتی۔چنانچہ پتھر آگ سے تپ گئے یہ گرم بھی نہ ہوا،اس علامت سے واپس لائے،جاتے وقت اس پتھر کے بوجھ سے کئی سو اونٹ دب کر مر گئے تھے مگر واپسی کے وقت ایک دبلا اونٹ اسے مکہ لے آیا۔غرضکہ سنگ اسود عجیب نورانی بابرکت پتھر ہے۔(مرقاۃ)
|
2580 -[20] وَعَن عُبيدِ بنِ عُمَيرٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُزَاحِمُ عَلَيْهِ قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مَسْحَهُمَا كَفَّارَةٌ لِلْخَطَايَا» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنْ طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ أُسْبُوعًا فَأَحْصَاهُ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ» . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا يَضَعُ قَدَمًا وَلَا يَرْفَعُ أُخْرَى إِلا حطَّ اللَّهُ عنهُ بهَا خَطِيئَة وكتبَ لهُ بهَا حَسَنَة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عبید ابن عمیر سے ۱؎ کہ حضرت ابن عمر دو رکنوں میں اس قدر بھیڑ میں گھستے ۲؎ کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں سے کسی کو وہاں اس قدر گھستے نہ دیکھا ۳؎ فرماتے ہیں کہ اگر میں یہ کرتا ہوں تو درست ہے کیونکہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ان کا چھونا گناہوں کا کفارہ ہے ۴؎ اور میں آپ کو فرماتے سنا کہ جو اس بیت اﷲ کا ایک ہفتہ نہایت حفاظت و احتیاط سے طواف کرے ۵؎ تو غلام آزاد کرنے کی طرح ہوگا اور میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ طواف کرنے والا ایک قدم نہیں رکھتا اور دوسرا نہیں اٹھاتا مگر رب تعالٰی ان کی برکت سے ایک گناہ مٹاتا ہے اور ایک نیکی لکھتا ہے ۶؎ (ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع