30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ ہر وقت اپنے ساتھ خیر یا شر لاتا ہے،کسی وقت میں خطرناک حادثے ہوجاتے یا ہم سے برے اعمال سرزد ہوجاتے ہیں اور کسی وقت میں اچھے واقعات رونما ہوتے ہیں یا ہم کو اچھے اعمال کی توفیق ملتی ہے۔اس دعا میں عرض کیا گیا ہے کہ خدایا اس وقت کے حادثات،برے اعمال سے تیری پناہ اور اس وقت کے اچھے واقعات اورنیک اعمال کی توفیق کی تجھ سے طلب ہے۔معلوم ہوا کہ اوقات کو حادثات و اعمال میں دخل ہے۔
۴؎ کسل کے معنی ہیں طبیعت کا بوجھ جس سے عبادات بخوبی ادا نہ ہوسکیں اگرچہ جسم میں طاقت ہو۔ہر م وہ بڑھاپا جس سے زندگی کا اصل مقصود فوت ہو جائے یعنی علم و عمل جاتے رہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لِکَیۡ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْـًٔا"اور بڑھاپے کی برائی سے مراد سٹھ جانا ہے کہ مت کٹ جائے اور انسان دوسرو ں پر بوجھ بن جائے کہ اپنے عزیز اس کی موت کی تمنا کرنے لگیں۔معلوم ہوا کہ شیخوختہ،ہرم اور کبر اگرچہ تینوں کے معنی بڑھاپا ہی ہیں مگر ان تینوں کا آپس میں بڑا فرق ہے،یہ بھی معلو م ہوا کہ یہاں ھرم و سوءکبر میں تکرار نہیں بلکہ ان کے معنی جدا جدا ہیں۔
۵؎ دنیا کے فتنے،محبت دنیا اور غفلت عیش ہیں،یہ دونوں چیزیں تمام گناہوں کی خبر ہیں۔عذاب قبر سے مراد یا تو خود وہاں کا عذاب ہے یا اس عذاب کے اسباب جیسے چغل خوری یا پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہ کرنا وغیرہ بہرحال یہ دعا بہت نفیس ہے۔
۶؎ باقی تمام وہ الفاظ کہتے جو شام کے وقت کی دعا میں گزر گئے اور ان کی وہ ہی تفسیر ہے جو ابھی عرض کردی گئی۔
۷؎ خیال رہے کہ دوزخ کا عذاب آگ میں عذاب ہے کہ بندہ آگ میں داخل ہو کر عذاب پائے گا اور قبر میں عذاب آگ کا عذاب ہے کہ قبر میں دوزخ نہیں آجاتی بلکہ دوزخ کی کھڑکی کھل جاتی ہے جس سے وہاں کی لپٹ،گرمی،دھواں،بدبو وغیرہ آتی رہتی ہے،رب تعالٰی دونوں سے بچائے۔
|
2382 -[2] وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا» . وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: «الْحَمْدُ الله الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا مَا أماتنا وَإِلَيْهِ النشور» . رَوَاهُ البُخَارِيّ 2383 -[3]وَمُسلم عَن الْبَراء |
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب رات میں اپنا بستر لیتے تو اپنا ہاتھ ر خسار کے نیچے رکھتے ۱؎ پھر کہتے الٰہی میں تیرے نام پر مروں گا اور جیوں گا ۲؎ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے شکر ہے اس اﷲ کا جس نے ہمیں مر جانے کے بعد زندہ کیا اسی کی طرف اٹھنا ہے ۳؎ (بخاری)اور مسلم نے حضرت براء سے۔ |
۱؎ آپ کا بستر شریف قبر کے رُخ بچھایا جاتا ہے کہ قبلہ کے داہنے سر مبارک ہوتا اور قبلہ کے بائیں پاؤں شریف حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سیدھی کروٹ پر لیٹتے،داہنا ہاتھ داہنے رخسار ہ کے نیچے رکھتے تھے۔قبر میں میت کی ہیئت بھی یہ ہی ہوتی ہے،چونکہ نیند موت کا نمونہ ہے اسی لیے حضور علیہ السلام کا بستر قبر کے نمونہ کا ہوتا تھا تاکہ لیٹنے کے وقت موت یاد آئے کہ کبھی قبر میں بھی لیٹنا ہے۔
۲؎ یہاں موت و زندگی سے مراد سونا جاگنا ہے،رب تعالٰی کا نام شریف ممیت بھی ہے اور محیی بھی یعنی ممیت کے نام پر مروں گا اور محیی کے نام پر جیوں گا یعنی بیدار ہوں گا کہ میرے یہ دو حال تیرے ان دو ناموں کا مظہر ہیں۔(مرقات)
۳؎ یعنی یہ جاگنا یہ کل قیامت میں اٹھنے کی دلیل ہے۔نشور نشر سے بنا بمعنی متفرق ہونا،پھیل جانا،اسی سے انتشار اور منتشر بنا،جاگنے کو نشور اسی لیے کہتے ہیں کہ بندے جاگ کر طلب رزق وغیرہ کے لیے پھیل جاتے ہیں اور بکھر جاتے ہیں۔خیال رہے کہ عربی میں نیند،سکون،بے عقلی،جہالت،بھیک مانگنے،گناہ،بڑھاپے،ناگوار حالت جیسے ذلت،فقر و غیرہ کو موت کہہ دیتے ہیں اور ان کے مقابل کو حیات یعنی زندگی،یہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع