30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتی۔دوسرے اس لیے کہ کپڑوں کی پاکی،کعبہ کو منہ، قرأت قرآن،رکوع سجود وغیرہ ان اماموں کے ہاں بھی طواف میں فرض نہیں، حالانکہ یہ چیزیں نماز میں فرض ہیں۔ معلوم ہواکہ طواف کو نماز سے صرف عبادت ہونےمیں تشبیہ دی گئی ہے،نہ کہ شرائط و ارکان کے اشتراط میں۔(اشعہ)
|
2577 -[17] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَزَلَ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ فَسَوَّدَتْهُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ حجر اسود جنت سے آیا ۱؎ وہ دودھ سے زیادہ سفید تھا،اسے آدمیوں کے گناہوں نے سیاہ کردیا ۲؎(احمد،ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے ۳؎ |
۱؎ حدیث بالکل ظاہری معنی میں ہے بلاوجہ کسی تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں،واقعی یہ پتھر جنت سے آیا۔ہوسکتا ہے کہ وہ گھر جو آدم علیہ السلام کے طواف و سجدوں کے لیے جنت سے آیا تھا جو طوفان نوح کے وقت اٹھالیا گیا اسی کا یہ پتھر ہو جو باقی رکھا گیا یا مستقل طور پر وہاں سے یہ پتھر لایا گیا ہو۔
۲؎ یعنی یہ پتھر شفاف آئینہ یا سیاہی چوس کاغذ کی طرح ہے جیسے شفاف آئینہ گرد و غبار سے میلا اور سیاہی چوس کاغذ گیلے حرفوں پر لگنے سے سیاہ ہوجاتا ہے ایسے ہی یہ پتھر ہم گنہگاروں یا گزشتہ مشرکوں کے ہاتھ لگنے سے برابر سیاہ ہوتا چلا گیا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جب ہمارے گناہوں سے سنگ اسود سیاہ ہوگیا تو گناہوں سے دل بھی میلا ہوجاتا ہے اور بدکاروں گنہگاروں کی صحبت سے اچھے برے بن جاتے ہیں،بروں کی صحبت سے پر ہیز چاہیے،ر ب تعالٰی فرماتاہے فرماتاہے:"فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ"صحبت کی تاثیرضروری ہے۔
۳؎ یہ حدیث احمد،نسائی،ابن عدی،بیہقی،طبرانی وغیرہ نے مختلف اسنادوں سے روایت کی،غرضکہ حدیث بہت قوی ہے۔
|
2578 -[18] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجَرِ: «وَاللَّهِ لَيَبْعَثَنَّهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنِ اسْتَلَمَهُ بِحَقٍّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حجر کے متعلق فرمایا رب کی قسم اﷲ اسے قیامت کے دن ایسے اٹھائے گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھتا ہوگا اور ایک زبان ہوگی جس سے بولتا ہوگا حق سے چومنے والوں کو گواہی دے گا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی) |
۱؎ حدیث بالکل ظاہر ہےکسی تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں،قیامت میں قرآن،ہمارے نیک اعمال وغیرہ تمام کی شکلیں ہوں گی اور سب کلام کریں گے بلکہ ہمارے اعضاء بھی بولیں گے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ تُکَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡہِمْ وَ تَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ"۔جو رب تعالٰی ان چیزوں کو گویائی بخش سکتا ہے وہ سنگ اسود کو بھی گویائی،آنکھ وغیرہ بخش سکتا ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ سنگ اسود حاجیوں کی شفاعت کرے گا۔دوسرے یہ کہ سنگ اسود بحکم الٰہی نافعی ہے۔تیسرے یہ کہ سنگ اسود کا چومنا مفید ہے،قیامت میں کام آئے گا۔چوتھے یہ کہ کروڑوں آدمیوں نے اسے چوما یہ ان سب کو جانتا پہنچانتا ہے۔پانچویں یہ کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع