دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۱؎ یعنی بیت اﷲ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا بدعت ہے سنت نہیں،امام ابوحنیفہ و شافعی و مالک رضی اللہ عنہم کا یہ مذہب ہے،امام احمد کے ہاں ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔مرقات نے فرمایا کہ ان تین اماموں کے ہاں بھی کعبہ دیکھ کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت ہے،فتح القدیر و مرقات میں بیہقی سے ہے کہ فاروق اعظم فرماتے ہیں کہ جب بیت اﷲ شریف کو دیکھو تو ہاتھ اٹھا کر پڑھو  اللھم انت السلام شافعی نے حضرت ابن جریح سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ معظمہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتے اور یہ دعا کرتے تھے"اَللّٰھُمَّ زِدْ ھٰذَا الْبَیْتَ تَشْرِیْفًا وَّ تَعْظِیْمًا"الٰہی اس گھر کی عزت و شرف اور بڑھادے،بیہقی نے بھی اس کی مثل روایت کی جب کہ ثبوت و نفی کی روایات میں تعارض ہوا تو ثبوت کی روایت کو ترجیح ہوگئی،نفی کرنے والوں کو اس کی خبر نہ ہوئی یا یوں کہو کہ اول نظر پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے پھر جب بھی کعبہ نظر آئے بغیر ہاتھ اٹھائے دعا کرے،اس طرح دونوں روایتیں جمع ہیں۔بہرحال ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ممنوع نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہے۔(مرقات)

2575 -[15]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ مَكَّةَ فَأَقْبَلَ إِلَى الْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ مَا شَاءَ وَيَدْعُو. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو مکہ معظمہ میں داخل ہوئے،حجر اسود کے سامنے آئے اسے چوما پھر بیت اﷲ کا طواف کیا پھرصفا پر تشریف لائے ۱؎  تو اس پر اتنا چڑھے کہ بیت اﷲ نظر آگیا تو اپنے ہاتھ اٹھائے تو اس قدر اﷲ کا ذکر و دعا کرتے رہے جتنا رب نے چاہا ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎ یہ واقعہ یا تو حجۃ الوداع کا ہے یا کسی عمرہ کا اور صفا کی طرف جانا طواف اور طواف کی نماز ادا کرکے ہے۔

۲؎ اس زمانہ میں صفا پر بہت اوپر چڑھ کر کعبہ نظر آتا تھا،اب تو زمین پر ہی نظر آجاتا ہے کہ زمین بہت اونچی ہوچکی ہے اور مروہ پر بالکل نظر نہیں آتا مگر ادائے سنت کے لیے کچھ چڑھ جانا چاہیے۔بہتر یہ ہے کہ وہاں جو دل چاہے دعا مانگے کوئی خاص مقرر نہ کرے کہ اس مقرر کرنے میں دل میں خشوع نہیں پیدا ہوتا۔

2576 -[16]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيهِ فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَذَكَرَ التِّرْمِذِيُّ جَمَاعَةً وَقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عباسٍ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا بیت اﷲ کے گرد طواف نماز کی طرح ہے ۱؎ بجز اس کے کہ تم اس میں بات کرسکتے ہو تو جو طواف میں کلام کرے تو اچھا ہی کلام کرے۲؎ (ترمذی،نسائی،دارمی)اور ترمذی نے اس جماعت کا ذکر کیا جنہوں نے اسے ابن عباس پر موقوف کیا۔

۱؎ طواف بھی نماز کی طرح بہترین عبادت ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ مکہ والوں کے لیے نماز طواف سے افضل ہے اور باہر والوں کے لیے طواف نماز سے افضل کہ انہیں اس خاص زمانہ ہی میں طواف میسر ہوتا ہے ۔(اشعہ)

۲؎ یعنی طواف کی حالت میں دنیاوی کلام بھی جائز ہے لیکن جائز کلام کر لے ناجائز باتیں،غیبت،جھوٹ وغیرہ نہ کرے۔اس حدیث کی بناء پر بعض اماموں نے طواف میں وضو فرض مانا کہ نماز میں وضو فرض ہے اور طواف نماز کی طرح ہے لہذا اس میں بھی وضو فرض ہو، امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاں وضو فرض نہیں۔اولًا تو اس لیے کہ یہ حدیث ظنی ہے اور ظنیات سے فرضیت ثابت نہیں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن