30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ سواری پر طواف کرنے والا صرف رکن اسود پر اشارہ سے بوسہ دے گا۔رکن کی طرف اشارہ کرنا نہیں چاہیے اسے صرف ہاتھ لگا کر چومنا ہی سنت ہے۔دوسرے یہ کہ رکن اسود سے کوئی لمبی چیز لگاکر اسے چومنا بھی سنت سے ثابت ہے اور صرف اشارہ کرکے ہاتھ چومنا لینا بھی درست ہے۔
|
2571 -[11] وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ ويقبِّلُ المحجن. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوطفیل سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو بیت اﷲ کا طواف کرتے دیکھا ۱؎ آپ اپنے پاس ہاتھ کی چھڑی سے سنگ کو چھوتے اور چھڑی چوم لیتے۔(مسلم) |
۱؎ یعنی میں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو سواری پر طواف کرتے دیکھا تب ہی تو حضور علیہ السلام نے چھڑی سے سنگ اسود کو مس کرکے چھڑی چوم لی۔(مرقات)
|
2572 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ طَمِثْتُ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ: «لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَإِنَّ ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوئے حج کے سواء کسی چیز کا خیال بھی نہ کرتے تھے ۱؎ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں کپڑوں سے ہوگئی ۲؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم آئے تو میں رو رہی تھی فرمایا شاید تم مہینے سے ہوگئی میں نے عرض کیا ہاں ۳؎ فرمایا کہ یہ تو وہ شے ہے جو اﷲ تعالٰی نے عورتوں پر مقرر فرمادی۴؎ جو کچھ حجاج کریں تم بھی کرو بجز اس کے کہ طواف بیت اﷲ نہ کرنا حتی کہ پاک ہوجاؤ ۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ کیونکہ صدیوں سے اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ شوال سے محرم تک عمرہ جائز نہیں یہ حج کے مہینے ہیں،ہم بھی یہ ہی خیال لیے ہوئے حج کو گئے تھے مگر یہ فرمان پچھلی روایت کے خلاف ہے جہاں آپ نے فرمایا تھا کہ میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا،ممکن ہے کہ یہاں عوام کا خیال مرادہو نہ کہ اپنا۔
۲؎ سرف مکہ معظمہ سے چھ میل کے فاصل پر جانب مدینہ منورہ پر ایک مقام ہے،اب مدینہ منورہ کا راستہ بدل چکا ہے سرف نہیں،یہاں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا مزار ہے۔
۳؎ نفست نون کے فتح سے بمعنی حضت ہے اور نون کے پیش سے ولادت کے خون کے معنی میں آتا ہے،یہاں پہلے معنی میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ سمجھی تھیں کہ ماہواری کی حالت میں عورت حج نہیں کرسکتی کیونکہ طواف حج کا رکن اعلٰی ہے جب وہ ہی نہ ہوسکا تو باقی ارکان بھی ادا نہ ہوسکیں گے اس لیے آپ روئیں کہ اب کیا کروں۔
۴؎ بنات آدم سے ساری عورتیں مراد ہیں جن میں حضرت حوا بھی داخل ہیں کہ انہیں بھی ماہواری آتی تھی،بعض علماء نے فرمایا کہ حضرت مریم کو اور بعض نے کہا فاطمہ زہرا کو بھی ایام نہ آتے تھے،یعنی اے عائشہ اس میں رونے کی کیا بات ہے یہ عارضہ تو ساری عورتوں کو ہوا ہی کرتا ہے۔
ع مرگ،انبوہ جشنے دارد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع