30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ کہ یہ چومنا جائز ہے یا ناجائز،اگرجائز ہے تو سنت بھی ہے یا نہیں،بعض جہلاء کو خیال ہوگیا تھا کہ یہ پتھر پرستی ہے،ان پر شیطانی توحید کا زور ہوگیا تھا اس لیے صحابہ کرام سے یہ سوالات ہوتے تھے اس طرح کہ کبھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے منہ لگا کر چوما اور کبھی ہاتھ سے سنگ اسود چھوا اور ہاتھ شریف چوم لیا۔
|
2568 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ من الْبَيْت إِلَّا الرُّكْنَيْنِ اليمانيين |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو بیت اﷲ کے دو گوشوں یمانیوں کے سوا کسی اور چیز کو چومتے نہ دیکھا ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ خانہ کعبہ کے چار گوشہ ہیں،ہر گوشہ کو رکن کہتے ہیں رکن اسود،رکن یمانی،رکن عراقی،رکن شامی۔رکن اسود کو دو عظمتیں حاصل ہیں: ایک یہ بناء ابراہیمی پر ہے،دوسرے اس میں سنگ اسود واقع ہے اس لیے اسے منہ یا ہاتھ لگا کر چومنا سنت ہے۔رکن یمانی کو صرف ایک عظمت حاصل ہے بنیاد ابراہیمی پر ہونا اس لیے اسے صرف ہاتھ لگا کر چومنا سنت ہے منہ نہ لگانا بہتر۔(مرقات)باقی دو رکن عراقی، شامی کو ان دونوں میں سے کوئی عظمت حاصل نہیں کیونکہ یہ درمیان کعبہ میں ہیں،حطیم شریف بھی داخل کعبہ ہے اس لیے اسے چومنا سنت نہیں۔
|
2569 -[9] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: طَافَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بعير يسْتَلم الرُّكْن بمحجن |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر طواف کیا ۱؎ اور رکن اسود کو چھڑی سے چومتے تھے ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ بلامجبوری و معذوری سواری پرطواف کرنا ممنو ع ہے،طواف میں چلنا واجب ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا اونٹ پر طواف لوگوں کی تعلیم کے لیے تھا تاکہ تمام لوگ یہ طواف دیکھ کر طواف کرنا سیکھ لیں لہذا یہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خصوصیات سے ہے اور یہ حضور کا معجزہ ہے کہ اونٹ نے اس وقت پیشاب پائخانہ نہ کیا۔ہم لوگ مجبوری کی حالت میں بھی اونٹ،گھوڑا حرم شریف میں نہیں لے جاسکتے،ڈولی میں طواف کریں گے جیسا کہ بیمار و بڈھے لوگ کرتے ہیں۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے طوف قدوم تو پیدل کیا اور طواف زیارت سواری پر لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے طواف میں رمل کیا اور سواری پر رمل ناممکن ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حضور انور اس وقت بیمار تھے اس لیے سواری پر طواف کیا مگر یہ غلط ہے،ہاں بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے ایک عمرہ میں صفا مروہ کی سعی سواری پر کی مگر بیماری کی وجہ سے اس سعی میں حضور ان پہاڑوں پر چڑھے بھی نہیں،صفا مروہ کی سعی سواری پر کرنا ممنوع ہے۔(ازمرقات)
۲؎ کوئی بڑی چھڑی حضور انور کے ہاتھ شریف میں تھی جو اونٹ سے سنگ اسود تک پہنچ جاتی تھی اس طرح چومنا جائز ہے۔
|
2570 -[10] وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ عَلَى بَعِيرٍ كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِي يدِه وكبَّرَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے ان ہی سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے بیت اﷲ کا طواف اونٹ پر کیا جب بھی رکن پر آتے تو اپنے ہاتھ کی کسی چیز سے اس کی طرف اشارہ کردیتے ۱؎(بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع