دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۱؎ یعنی نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم حجۃ الوداع میں جس میں حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھیں، مکہ معظمہ اس طرف سے داخل ہوئے جس کا نام کداء تھا،مکہ معظمہ کے قبرستان جنت معلی کی طرف جسے اب حجون کہتے ہیں اور واپسی کے وقت اس طرف سے نکلے جسے ہدی کہتے تھے۔اب اسے باب الشبیکہ کہا جاتا ہے،فتح مکہ میں بھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم انہیں راستوں سے داخل و خارج ہوئے،یہ تبدیلی راہ انہیں مصلحتوں سے فرمائی جو عید کے دن عیدگاہ جاتے آتے وقت ہوا کرتی تھیں کہ تبدیلی راہ تبدیلی حال کی علامت ہو دونوں راستے گواہ ہوجاویں،سارے شہر کی برکتیں میسر ہو جائیں وغیرہ وغیرہ۔

2563 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن عُروةَ بنِ الزُّبيرِ قَالَ: قَدْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ حجَّ أَبُو بكرٍ فكانَ أوَّلَ شيءٍ بدَأَ بِهِ الطوَّافَ بالبيتِ ثمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ مثلُ ذَلِك

روایت ہے حضرت عروہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حج کیا تو مجھے حضرت عائشہ نے خبر دی ۱؎ کہ پہلا وہ کام جس سے حضور انور نے مکہ معظمہ آتے وقت ابتداء کی یہ تھا کہ آپ نے وضو کیا پھر بیت اﷲ کا طواف کیا ۲؎ پھر عمرہ نہ ہوا ۳؎ پھر حضرت ابوبکر نے حج کیا تو پہلا وہ کام جس سے ابتداء کی یہ تھا کہ بیت اﷲ کا طواف کیا پھر عمرہ نہ ہوا پھر حضرت عمر نے حضرت عثمان نے اسی طرح عمل کیا ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎  عروہ ابن زبیر ثقہ تابعین میں سے ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ کے بھانجے یعنی اسماء کے صاحبزادے،آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایات کیں۔

۲؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم غسل تو ذی طویٰ میں فرماچکے تھے اب بھی باوضو تھے    یہ وضو پر وضو فرمایا۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک طواف کے لیے طہارت واجب ہے،دوسرے اماموں کے ہاں شرط ہے،ان کی دلیل وہ حدیث ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ طواف نماز ہی ہے،ہاں طواف میں رب نے کلام جائز فرمادیا ہے۔جب طواف نماز ہے تو نماز میں طہارت شرط ہے لہذا طواف میں بھی شرط ہے مگر استدلال ضعیف ہے اوّلًا تو وہ حدیث ہی صحیح نہیں،دوم تشبیہ ہر بات میں نہیں ہوتی،دیکھو نماز میں کھانا پینا مفسد ہے مگر طواف میں کھانا پینابالاتفاق طواف نہیں توڑتا۔

۳؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سوا حج کے ساتھ والے عمرہ کے اور دوسرا عمرہ نہ کیا،آپ سے دوسرا عمرہ ثابت نہ ہوا،بعض شارحین نے اس جملہ کے اور معافی بھی کیے ہیں مگر یہ معنی بہت قوی ہیں۔

۴؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد حضرات خلفائے راشدین نے بھی اسی طرح عمل کیا کہ مکہ معظمہ میں آتے ہی طواف کیا اور حج سے پہلے صرف یہ ہی ایک عمرہ کیا جس کا احرام حج کے احرام کے ساتھ باندھا تھا،بعض حجاج حج سے پہلے اور حج کے بعد بہت سے عمرے کرتے رہتے ہیں یہ بھی اچھا ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ مکہ معظمہ سے عمرہ کے لیے باہر جانا صحابہ سے ثابت نہیں بجز حضرت عائشہ صدیقہ کے کہ آپ رہے ہوئے عمرہ کو پورا کرنے کے لیے تنعیم سے احرام باندھ کر آئیں۔(مرقات)لم تکن عمرۃ حضرت عروہ کا قول ہے نہ کہ عائشہ صدیقہ کا۔

2564 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ أَوِ الْعمرَة مَا يَقْدَمُ سَعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعَةً ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا والمروة

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جب حج یا عمرہ کا آتے ہی طواف کرتے تو تین چکروں میں تیز چلتے اور چار میں درمیانی چال چلتے ۱؎ پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر صفا ومروہ کا طواف فرماتے ۲؎(مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن