دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۵؎  خلاصہ یہ ہے کہ حج کا احرام والا بھی عمرہ کر کے کھل جائے حج کو فتح کردے،پھر بعد میں نئے احرام سے حج کرے تاکہ لوگوں کا یہ خیال ٹوٹ جائے کہ حج کے زمانہ میں عمرہ حرام ہے یا احرام کھولنا حرام،اب یہ درست نہیں کہ حج کا احرام باندھ کر عمرہ کر کے کھول دے۔جن صحابہ کرام نے تمتع کا انکار کیا ان کی یہ ہی مراد ہے یعنی حج فتح کر  کے عمرہ کرنا پھر حج کرنا،یہ بات خوب ذہن میں رکھیئے۔

۶؎ متمتع یا قارن اگر قربانی کے لیے جانور میسر نہ پائیں تو دس روزے رکھیں تو حج سے پہلے اشہر حج میں شوال،ذیقعدہ اور ذوالحجہ کے دس دن میں،مگر بہتر یہ ہے کہ تیسرا روزہ نویں ذوالحجہ کو ہو اور سات روزے حج کے بعد گھر پہنچ کر یا ایام تشریق کے بعد مکہ معظمہ میں۔ (مرقات و کتب فقہ)

۷؎  رمل یا خوب اکڑکر چلنے یا بہادروں کی رفتار سے چلنے کو کہتے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام نے عمرہ قضا کے طواف میں تین چکروں میں رمل کیا تھا مشرکین مکہ کو اپنی طاقت و قوت دکھانے کے لیے،پھر یہ رمل دائمی سنت ہوگیا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع کے طواف قدوم میں بھی کیا اب بھی حجاج رمل کرتے ہیں۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے اعمال و افعال کی نقل عبادت ہے،اس رب کے گھر میں طواف جو عبادت ہے اس کی حالت میں اکڑنا عقل کے خلاف معلوم ہوتا ہے،بارگاہِ الٰہی میں عجزو انکسار چاہیے مگر چونکہ یہ اکڑنا سنت ہے لہذا محبوب ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ عین عبادت کی حالت میں کفار کو اپنی طاقت دکھانا بہتر ہے کہ اسلامی قوت کا اظہار بھی عبادت ہے،اب بھی فوجی پریڈ و فوجی سلاموں میں پھرتی و طاقت کا اظہار ہوتا ہے ۔

۸؎ بلکہ احرام پر قائم رہے کیونکہ آپ قارن تھے اور قران میں بقر عید کے دن ہی احرام کھولا جاتا ہے،یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرہ کے بعد حج کا احرام باندھا لہذا یہ ہی ظاہر ہے کہ حج و عمرہ کے احرام ایک ساتھ ہی باندھے تھے اور قران ہی کیا تھا،یہ احناف کا مذہب ہے کہ قران افضل ہے۔

۹؎ اس طرح کہ بقر عید کے دن رمی جمرہ سے تو حل ناقص ہوا جس سے سواء جماع باقی تمام چیزیں حلال ہوگئیں اور طواف زیارت سے حل کامل ہوگیا کہ صحبت بھی درست ہوگئی۔

۱۰؎ یعنی ہدی والے صحابہ کرام تو احرام سے بقر عید کے دن فارغ ہوئے اور بغیر ہدی والے صحابہ خواہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا یا حج کا عمرہ کر  کے احرام سے کھل گئے پھر آٹھویں ذی الحجہ کو محرم ہوئے جیساکہ گزر گیا۔

2558 -[4]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْيُ فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وَهَذَا الْبَابُ خَالٍ عَنِ الْفَصْلِ الثَّانِي

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ وہ عمرہ ہے جس سے ہم نے تمتع کرلیا ۱؎ تو جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ پورا پورا حلال ہوجائے ۲؎ کیونکہ اب قیامت تک کو عمرہ حج میں داخل ہوگیا ۳؎(مسلم)

یہ باب دوسری فصل سے خالی ہے۔

۱؎ یہاں بھی تمتع لغوی معنی میں ہے یعنی حج و عمرہ سے نفع اٹھالے دونوں ایک سفر میں کرنا قران کا مقابل نہیں یعنی الگ الگ احرام سے حج و عمرہ کرنا جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا۔

۲؎ پورا حلال ہونا یہ ہے کہ بیوی سے صحبت بھی جائز ہوجائے،ناقص حل یہ ہے کہ سلا کپڑا،خوشبو،سر ڈھانپنا تو حلال ہوجائے مگر صحبت حرام رہے اس حکمت سے یہاں پورے حلال کا حکم دیا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن