30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2557 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وليُهد فمنْ لم يجدْ هَديا فيلصم ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ» فَطَافَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعًا فَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَاقَ الْهَدْي من النَّاس |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے وداعیہ حج میں حج و عمرہ کا تمتع کیا ۱؎ تو اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے تو ابتداء یوں فرمائی کہ پہلے عمرہ کا پھرحج کا احرام باندھا ۲؎ لوگوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج و عمرہ کا تمتع کیا ۳؎ بعض لوگ تو ہدی لے گئے تھے اور بعض نہ لے گئے تھے تو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے تو لوگوں سے فرمایا کہ تم سے جو ہدی لایا ہو وہ کسی حرام شدہ چیز سے حلال نہ ہو۴؎ تا آنکہ حج پورا کرلے اور جو ہدی نہ لایا ہو وہ کعبہ کا طواف کرے اور صفا مروہ میں دوڑے اور بال کٹوائے حلال ہوجائے۵؎ پھر حج کا احرام باندھے اور قربانی دے جو قربانی نہ پائے وہ تین روزے زمانہ حج میں رکھے اور سات روزے گھر لوٹتے وقت ۶؎ پھر جب حضور انور مکہ آئے تو طواف کیا سب سے پہلے سنگ اسود چوما پھرتین چکروں میں رمل فرمایا اور چار میں عام رفتار سے چلے۷؎ پھر جب طواف کعبہ پورا کرچکے تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا پھر لوٹے تو صفا پر آئے صفا مروہ کا سات بار طواف کیاپھر آپ کسی حرام شدہ چیز سے حلال نہ ہوئے۸؎ حتی کہ حج پورا فرمالیا اور قربانی کے ہدی ذبح کردیئے اور منٰی سے چلے بیت اﷲ کا طواف کیا پھر تمام حرام شدہ چیزوں سے حلال ہوگئے ۹؎ اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے سے کام تمام ہدی لانے والے لوگوں نے کئے۱۰؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہاں تمتع بمعنی لغوی میں ہے حج و عمر ہ دونوں سے نفع حاصل کرنا تمتع عرفی یعنی قران کا مقابل مراد نہیں تاکہ یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہ ہو جن میں قران ثابت ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اولًا حج کا احرا م باندھا پھر عمرہ کا بھی باندھ لیا جس سے قران ہوگیا۔ (اشعہ،مرقات،لمعات)یا اس کے برعکس دوسری صورت زیادہ ظاہر ہے۔
۲؎ بعض علماء نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے حج کا احرام باندھا تھا پھر عمرہ کا مگر چونکہ قران میں عمرہ پہلے ہوتا ہے حج بعد میں اس لیے عمرہ کا پہلے ذکر ہے۔بعض نے اس کو ظاہری معنی پر رکھا اور کہا کہ جن روایات میں اس کے برعکس ہے وہاں حج کے فرض کی وجہ سے اس کا ذکر پہلے ہے۔ واﷲ اعلم!(مرقات)
۳؎ یعنی بعض صحابہ نے بھی قران کیا،یہاں بھی تمتع لغوی معنی میں ہے یعنی حج و عمرہ سے نفع حاصل کرنا۔
۴؎ یعنی ہدی والے تو احرام پر قائم رہیں اور بغیر ہدی والے عمرہ کر کے احرام کھول دیں اس کی وجہ پہلے عرض کی جاچکی ہے۔شیخ نے یہاں فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے حج کا احرام باندھا تھا پھرعمرہ کا جن لوگوں نے پہلا احرام دیکھا انہوں نے افراد کی روایت کی اورجنہوں نے بعد کا حال دیکھا انہوں نے قران کی روایت کی،تمتع والی روایات میں تمتع سے لغوی معنی مراد ہیں،قران بھی لغۃً تمتع ہے لہذا تمام احادیث درست ومطابق ہیں۔(اشعہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع