دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۴؎  دونوں عبارتوں کا مطلب قریبًا یکساں ہے کیونکہ قارن اور ہدی والا تمتع دسویں بقرعید کو ہی قربانی کرتے ہیں اور اسی دن دونوں احراموں سے کھلتے ہیں۔

۵؎  یعنی افراد بالحج والا خواہ ہدی لایا ہو یا نہ لایا ہو بقر عید کے دن ہی احرام کھولے جیساکہ مفرد کرتے ہیں۔

۶؎ یعنی میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا مگر حج سے پہلے عمرہ نہ کرسکی کیونکہ میں ایام آجانے کی وجہ سے طواف نہ کرسکی اور بغیر طواف صفا مروہ کی سعی ہوتی نہیں لہذا عمرہ کا کوئی رکن ادا نہ کرسکی۔خیال رہے اگر عورت کو طواف کے بعد ایام آجائیں تو وہ سعی کرسکتی ہے،اگر طواف سے پہلے آجائیں تو نہ طواف کرسکتی ہے نہ سعی۔

۷؎ اسے فسخ عمرہ یا رفض عمرہ کہتے ہیں کہ عمرہ کا احرام باندھ کر بغیر عمرہ کئے کھل جانا یعنی خلاف احرام افعال کر لینا۔

۸؎ اس طرح کہ حج کا احرام باندھ کر بغیرطواف قدوم کئے عرفات چلی گئی،پھرعرفات مزدلفہ منٰی کے افعال سے فارغ ہوکرطواف زیارت کرلیا کہ اب میں ایام سے فارغ ہوچکی تھی طواف قدوم ایام کی وجہ سے نہ کرسکی تھی،اب بھی عورت کو عارضہ آجانے پر یہ ہی حکم ہے کہ اسے طواف قدوم بلکہ طواف وداع بھی معاف ہوجاتا ہے۔

۹؎  تنعیم مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلہ پر حدود حرم سے باہر جگہ ہے،اب وہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے،عام حجاج وہاں جاکر نفلی عمروں کا احرام باندھتے ہیں،یہ جگہ قریب ترین حد حرم ہے۔یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ حائضہ عورت اپنا عمرہ چھوڑ دے اور بعد حج اس کی جگہ دوسرا عمرہ یعنی عمرہ قضا کرے۔حضرت عائشہ صدیقہ کا تمتع ہوا نہ کہ قران اور یہ بعد والا عمرہ عمرہ واجبہ تھا نہ کہ عمرہ نفلی جیسا کہ شوافع نے سمجھا۔

۱۰؎ یہ حضرات ۷ ذی الحجہ تک حلال رہے آٹھویں کو احرام باندھ کر منٰی روانہ ہوگئے جیساکہ تمتع والے اب بھی کرتے ہیں

۱۱؎  طواف زیارت جس کا وقت دسویں بقر عید سے بارھویں بقر عید کی شام تک ہے،یہ طواف فرض ہے۔

۱۲؎  یعنی قران  والوں نے بھی منٰی سے واپس ہوکر صرف ایک طواف ہی کیا،طواف زیارت انہوں نے قران  کی وجہ سے اب دو طواف نہ کئے لہذا یہ حدیث نہ تو احناف کے خلاف ہے نہ شوافع کی دلیل۔خیال رہے کہ قارن احناف کے نزدیک بعد ادائے عمرہ عرفات جانے سے پہلے طواف قدوم اور صفا مروہ کی سعی کرے گا اور بعد عرفات طواف زیارت کرے گا،امام شافعی کے ہاں قارن طواف قدوم نہیں کرتا،صرف بعد عرفات طواف زیارت کرتا ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے،ہماری دلیل یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم قارن تھے مگر آپ نے عمرہ کے بعد طواف قدوم کیا، نیز دارقطنی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم قارن تھے مگر آپ نے عرفہ سے دو طواف کئے اور دو سعی،ایک طواف وسعی عمرہ کا،دوسرا طواف وسعی حج کا،نیز طحاوی نے عمران ابن حصین،علی،عبداﷲ ابن مسعود رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ قارن دو طواف کرے اور دو سعی لہذا اس حدیث عائشہ کے یہ ہی معنی ہیں کہ عرفات کے بعد قارن صحابہ رضی اللہ عنھم نے ایک طواف کیا تاکہ تمام احادیث جمع ہوجائیں اور یہ حدیث ہماری پیش کردہ احادیث کے خلاف نہ ہو۔

2557 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وليُهد فمنْ لم يجدْ هَديا فيلصم ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ» فَطَافَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعًا فَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَاقَ الْهَدْي من النَّاس

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے وداعیہ حج میں حج و عمرہ کا تمتع کیا ۱؎ تو اپنے ساتھ ذوالحلیفہ سے ہدی لے گئے تو ابتداء یوں فرمائی کہ پہلے عمرہ کا پھرحج کا احرام باندھا ۲؎ لوگوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج و عمرہ کا تمتع کیا ۳؎ بعض لوگ تو ہدی لے گئے تھے اور بعض نہ لے گئے تھے تو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے تو لوگوں سے فرمایا کہ تم سے جو ہدی لایا ہو وہ کسی حرام شدہ چیز سے حلال نہ ہو۴؎ تا آنکہ حج پورا کرلے اور جو ہدی نہ لایا ہو وہ کعبہ کا طواف کرے اور صفا مروہ میں دوڑے اور بال کٹوائے حلال ہوجائے۵؎ پھر حج کا احرام باندھے اور قربانی دے جو قربانی نہ پائے وہ تین روزے زمانہ حج میں رکھے اور سات روزے گھر لوٹتے وقت ۶؎ پھر جب حضور انور مکہ آئے تو طواف کیا سب سے پہلے سنگ اسود چوما پھرتین چکروں میں رمل فرمایا اور چار میں عام رفتار سے چلے۷؎ پھر جب طواف کعبہ پورا کرچکے تو مقام ابراہیم کے پاس دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا پھر لوٹے تو صفا پر آئے صفا مروہ کا سات بار طواف کیاپھر آپ کسی حرام شدہ چیز سے حلال نہ ہوئے۸؎ حتی کہ حج پورا فرمالیا اور قربانی کے ہدی ذبح کردیئے اور منٰی سے چلے بیت اﷲ کا طواف کیا پھر تمام حرام شدہ چیزوں سے حلال ہوگئے ۹؎ اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے سے کام تمام ہدی لانے والے لوگوں نے کئے۱۰؎ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن