30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷۴؎ آپ نے کھڑے کھڑے ہی ڈول سے زمزم پیا،بقیہ پانی چاہ زمزم میں ڈال دیا گیا،اب اس پانی میں دو برکتیں ہیں: ایک تو حضرت ذبیح اﷲ کے پاؤں شریف کا دھوون ہے اور دوسرے حبیب اﷲ کا پیا ہوا پانی اس میں ہے،مبارک ہیں وہ جنہیں اس کا پینا نصیب ہو۔
۷۵؎ یہ حدیث ابن ابی شیبہ،ابوداؤد،نسائی،عبد ابن حمید بزاز،دارمی نے بھی حضرت امام جعفر صادق عن ابیہ عن جابر روایت کی۔
|
2556 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ العُمرةِ ثمَّ لَا يحل حَتَّى يحل مِنْهَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ» . قَالَتْ: فَحِضْتُ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِالْحَجِّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ فَفَعَلْتُ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّي بَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مَكَانَ عُمْرَتِي مِنَ التَّنْعِيمِ قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثمَّ طافوا بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ۱؎ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں روانہ ہوئے تو ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا ۲؎ ہم جب مکہ آئے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہوجائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی لایا ہو وہ عمرہ کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے۳؎ پھر حلال نہ ہو حتی کہ ان دونوں سے حلال ہو اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر حلال نہ ہو حتی کہ ہدی کی قربانی کرلے۴؎ اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو وہ اپنا حج پورا کرے ۵؎ فرماتی ہیں کہ میں کپڑوں سے ہوگئی حالانکہ میں نے بیت اﷲ کا طواف نہ کیا تھا نہ صفا اور مروہ کی سعی تو میں کپڑوں سے ہی رہی،حتی کہ عرفہ کا دن آگیا ۶؎ اور میں نے صرف عمرہ کا ہی احرام باندھا ہوا تھا تو مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ میں اپنے بال کھول دوں اور کنگھی کرلوں اور حج کا احرام باندھ لوں عمرہ چھوڑ دوں ۷؎ میں نے ایسا ہی کیا حتی کہ میں نے اپنا حج پورا کرلیا ۸؎ میرے ساتھ عبدالرحمان ابن ابوبکر صدیق کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کی جگہ مقام تنعیم سے عمرہ کروں ۹؎ فرماتی ہیں کہ جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اﷲ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی پھر حلال ہوگئے ۱۰؎ پھر منٰی سے لوٹنے کے بعد ایک طواف کیا ۱۱؎ لیکن جنہوں نے حج وعمرہ جمع کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۱۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ ہم تمام ازواج نبی صلی اللہ علیہ و سلم یا صحابہ کرام۔
۲؎ صرف حج کا یا حج مع عمرہ کا یا بعض نے صرف حج کا بعض نے حج و عمرہ دونوں کا۔غرضکہ صحابہ کے حالات مختلف تھے۔(مرقات)
۳؎ یعنی یہ دونوں قسم کے حضرات تمتع کریں،ہدی لانے والے تو ہدی کا تمتع کریں کہ درمیان میں حلال نہ ہوں اور ہدی نہ لانے والے بغیر ہدی کا تمتع کرےکہ درمیان میں حلال ہوجائیں۔خیال رہے کہ حج چار قسم کا ہوتا ہے: افراد، قران، تمتع ہدی والا،تمتع بغیر ہدی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع