30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵۳؎ یعنی مولٰی تو ان کی گواہی کا گواہ ہوجا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَکَفٰی بِاللہِ شَہِیۡدًا"رب تعالٰی احکم الحاکمین بھی ہے اور گواہوں کا گواہ بھی،ہر حاکم گواہوں کا گواہ ہوتا ہے لہذا یہ گواہی رب تعالٰی کی حاکمیت کے خلاف نہیں،بعض نسخوں میں ینکبھا ب سے ہے نکب بمعنی جھانکنا اور نکت ت سے بمعنی کریدنا۔
۵۴؎ یہ جمع صلوتین ہے،عرفات میں ظہر و عصر ایک اذان اور دو تکبیروں سے ظہر کے وقت میں ادا کی جاتی ہے،ظہر کی سنتیں و نفل چھوڑ دی جاتی ہیں تاکہ عرفات پہاڑ پر جلد پہنچیں اور دعاؤں کے لیے کافی وقت ملے۔
لطیفہ معمہ: سوال: وہ کون سی جگہ ہے جہاں نفل کی وجہ سے فرض چھوڑ دیا جاتا ہے؟
جواب: وہ عرفات ہے جہاں نفل یعنی دعاؤں کی وجہ سے عصر کا وقت جو فرض ہے چھوڑ دیا جاتا ہے،امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاں یہ جمع صلوتین حج کی وجہ سے ہے،امام شافعی کے ہاں سفر کی وجہ سے۔مذہب حنفی قوی ہے کیونکہ خود مکہ والے جو مسافر نہیں ہوتے وہ بھی یہاں جمع صلوتین کرتے ہیں اب امام مکہ معظمہ میں رہتا ہے مگر جمع کرتا ہے۔
۵۵؎ حبل ریگ رواں کو کہتے ہیں جس پر رسیوں کی طرح سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں مشاۃ ماش کی جمع بمعنی چلنے والے،چونکہ ریگ کی وجہ سے یہاں سواری پر نہیں چل سکتے پیدل چلنا پڑتا ہے اس لیے اسے حبل مشاۃ کہتے ہیں۔یہ ایک میدان ہے عرفات شریف میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پتھریلے علاقہ پر اونٹنی کھڑی کی،اس طرح کہ ریگستانی خطہ حضور انورصلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے آگیا اور قبلہ کو آپ کا منہ ہوگیا،حجاج کو اس جگہ کھڑے ہونے کی کوشش کرنی چاہیے،شاید کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے قیام پر کھڑا ہونا نصیب ہوجائے۔
۵۶؎ پہلے غائب ہونے سے مراد تھا سورج کا کچھ حصہ غائب ہونا اور اس غائب ہونے سے مراد ہے پورا سورج ڈوب جانا۔ بیان میں ترتیب نہیں کیونکہ زردی سورج ڈوب چکنے کےبعد غائب ہوجاتی ہے۔راوی نے غروب آفتاب کا ذکر دو بار کیا تاکید کے لیے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ غروب سے قریب غروب ہونا مراد ہے۔
۵۷؎ یعنی آفتاب عرفات ہی میں غروب ہوگیا،اس کے بعد آپ مزدلفہ کی طرف اس طرح روانہ ہوئے کہ حضرت اسامہ ابن زید کو اپنی اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کرلیا۔مزدلفہ زلف بمعنی قریب سے ہے یا زَلَفٌ،بمعنی ہموار زمین سے،چونکہ یہ جگہ منٰے سے قریب ہے،نیز اسی جگہ حضرت آدم علیہ السلام و حوا علیھا السلام کی ملاقات کا قرب ہوا اور یہاں کی زمین ہموار ہے اس لیے اسے مزدلفہ کہتے ہیں۔مزدلفہ میں رات گزارنا ہمارے ہاں اور امام احمد کے ہاں سنت ہے،بعض شوافع کے ہاں فرض ہے۔(لمعات و اشعہ)بعض کے ہاں واجب۔
۵۸؎ امام احمد و زفر کے ہاں یہ ہی طریقہ ہے،ہمارے ہاں یہ دونوں نمازیں ایک ہی اذان اورایک ہی تکبیر سے ہوں گی کیونکہ عرفات میں تو عصر وقت سے پہلے ہوئی تھی اسی لیے اس کی علیحدہ اطلاع ضروری تھی مگر یہاں عشاء اپنے وقت میں ہورہی ہے اس کی نئی اطلاع کی ضرورت نہیں۔مسلم و ترمذی نے حضرت ابن عمر سے ایک تکبیر کی روایت کی،ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح فرمایا۔(اشعہ)
۵۹؎ عشاء کی سنتیں و وتر و نفل پڑھ کر لیٹے اس لیے ثم ارشاد فرمایا اب بھی حاجی کو مزدلفہ میں پوری عشاء مع سنت وتر پڑھنا چاہیے۔ (مرقات)مرقات نے فرمایاکہ سنت مغرب بھی پڑھنا بہتر ہے۔اس صورت میں یہاں نوافل اوابین کی نفی ہوگی۔
۶۰؎ آپ ہمیشہ تو فخر اجیالے میں پڑھا کرتے تھے مگر آج مزدلفہ میں فجر اول وقت پو پھٹتے ہی پڑھی۔اس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ فجر اجیالے میں پڑھنا چاہیے،معلوم ہوا کہ مزدلفہ کی شب میں حاجی کو سونا سنت ہے اگرچہ عمومًا عید کی رات کو جاگنا بہتر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع