30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴۶؎ یعنی زمانہ جاہلیت کے تمام غصب کئے ہوئے لوٹے ہوئے اور سودی کاروبار کے مال معاف ہیں جن کے ذمہ کسی کا قرض ہے اور سودبھی چڑھا ہوا ہے ان کے سود معاف،وہ اصل رقم ادا کردے۔حضرت عباس اسلام سے پہلے سود لیتے تھے،ان لوگوں پر بہت قرض و سود تھے جو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے معاف فرمادیئے ۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مسلمانوں کے جان و مال کے مالک ہیں،دیکھو آپ بذات خود خون بھی معاف فرمارہے ہیں اور مال بھی ان حق والوں سے معاف نہیں کرایا۔دوسرے یہ کہ قانون پر پہلے بادشاہ اور اس کے اہل قرابت عمل کریں پھر رعایاء سے عمل کرائیں تب قانون چلتا ہے اگر خود عمل نہ کریں تو رعایا عمل نہ کرے گی جیسے آج دیکھا جارہا ہے کہ قانون فٹ بال(Foot Ball)بن کر رہ گئے ہیں۔دیکھو سرکار نے یہ دونوں قانون پہلے اپنے اور اپنے اہل قرابت پر جاری فرمائے۔
۴۷؎ یہ ف عاطفہ ہے یعنی مال و خون کے معاملات میں ظلم نہ کرو،پھر اپنی بیویوں پر بھی زیادتی نہ کرو۔امان بمعنی امانت و عہد ہے یعنی تم نے انہیں اﷲ کی ضمانت پر اپنے نکاح میں لیا ہے۔کلمۃ اﷲ سے مراد اﷲ کا حکم ہے کہ فانکحو ھن یعنی اﷲ تعالٰی کے فرمان کے ماتحت تمہارے لیے وہ حلال ہوئی ہیں،ہمارے ہاں بوقت نکاح دولہا دلہن کو کلمہ پڑھاتے ہیں،اس کا ماخذ یہ حدیث ہوسکتی ہے تاکہ دونوں کا معاہدہ مضبوط رہے،کلمہ پڑھ کر عہد و پیمان کریں۔
۴۸؎ یعنی تمہارے گھروں میں کسی ایسے کو نہ آنے دیں اور تمہارے بستروں پر کسی ایسے کو نہ بیٹھنے دیں جن کا آنا بیٹھنا تم ناپسند کر تے ہو۔فقہاء فرماتے ہیں کہ عورت کے میکے والے حتی کہ اس کے ماں باپ بھی بغیر خاوند کی اجازت اس کے گھر نہ جائیں،اگر خاوند کا آنا اپنے گھر میں ناپسند کرے تو عورت انہیں نہ بلائے بلکہ میکے جاکر ان سے مل آئے اس کا ماخذ یہ حدیث ہے،ہاں مرد عورت کو ماں باپ کے ملنے سے منع نہیں کرسکتا کہ اس میں قطعیت رحم ہے۔
۴۹؎ یعنی انہیں اس قصور پر سزا دے سکتے ہو۔معلوم ہوا کہ مرد عورت کو سزاءً معمولی طور پر مارسکتا ہے کیونکہ مرد عورت کا حاکم ہے جیسے ماں،باپ،استاد اپنی اولاد شاگرد کو تنبیہًا مار پیٹ سکتے ہیں ایسے ہی خاوند بیوی کو مگر مار معمولی ہو اس لیے غیر مبرّح فرمایا کہ اس مار سے ایذاء مقصود نہیں اصلاح مقصود ہے۔
۵۰؎ بھلائی سے روٹی کپڑے کے معنے یہ ہیں کہ خوشدلی سے دو ان کے خرچ کو بوجھ نہ سمجھو اور جیسا خود کھاؤ پہنو ویسا ہی انہیں کھلاؤ پہناؤ۔
۵۱؎ یعنی میں جارہا ہوں اور قرآن کریم تم میں چھوڑے جاتا ہوں،اگر تم نے اپنے عقائد و اعمال اس کے مطابق رکھے تو گمراہ نہ ہوگے۔خیال رہے کہ پورے قرآن پر عمل ضروری اور قرآن شریف میں تو یہ حکم بھی ہے کہ اﷲ و رسول کی اطاعت کرو اور یہ بھی ہے کہ جس نے رسول اﷲ کی اطاعت کی،اس نے اﷲ کی اطاعت کی،لہذا سنت پر عمل لازم ہوا،اب یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ سنت پرعمل ضروری نہیں قرآن کافی ہے۔
۵۲؎ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے ایمان کی گواہی دیں گے اور ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغ کی گواہی دیں گے، ہاں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی تبلیغ کا کوئی بے ایمان انکار نہ کرسکے گا تاکہ پھر اس کی تحقیق کی جائے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیۡمِ"یہ سوال اور ہے اور جس سوال کی نفی ہے وہ اور سوال ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع