دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

۳۶؎  نمرہ عربی میں چیتے کو کہتے ہیں،عرفات کے قریب کنارہ حرم پر ایک پہاڑی کا نام نمرہ ہے جس پر حضرت عمر نے مینار بنایا تھا تاکہ حد حرم کی علامت رہے،چونکہ اس پر سیاہ و سفید پتھر ہیں جو چیتے کے داغ کے مشابہ ہیں اس لیے اسے نمرہ کہتے ہیں۔(لمعات و اشعہ)اس جگہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے قیام کے لیے خیمہ لگادیا گیا تھا۔معلوم ہوا کہ عرفات وغیرہ میں پہلے سے اپنے واسطے خیمہ لگالینا جگہ پر قبضہ کرلینا جائز ہے جیساکہ عمومًا معلم حضرات آج کل کرتے ہیں اس عمل کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۳۷؎  اسلام سے پہلے کفار عرب کا دستور تھا کہ قریش مکہ تو مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے تھے،عرفات نہ پہنچتے تھے اور عوام حجاج عرفات شریف جاتے تھے،تمام مسلمانوں کو یقین تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم بھی مزدلفہ میں ہی قیام کریں گے عرفات تشریف نہ لے جائیں گے کہ آپ تو قریش کے سردار ہیں،قرشی ہی، ہاشمی ہیں،مطلبی ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔مرقات نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ظہورنبوت سے پہلے جو حج کئے ان میں عوام کے ساتھ عرفات شریف میں ہی قیام فرماتے رہے۔

۳۸؎  قریش کہتے تھے کہ ہم حرم شریف کے کبوتر ہیں حرم سے باہر نہ جائیں گے عرفات حرم سے باہر ہے،نیز اس میں اپنا شرف بھی ظاہر کرتے تھے کہ ہم سردار معلوم ہوں۔

۳۹؎  یعنی اس قبہ میں قیام پذیر ہوئے۔معلوم ہوا کہ بحالت احرام چھت،چھتری،خیمہ وغیرہ کا سایہ لینا جائز ہے،امام مالک و احمد کے ہاں ممنوع ہے،یہ حدیث ان کے خلاف نہیں۔

۴۰؎ بطن وادی عرفات میں ایک میدان کا نام ہے جسے بطن عرفہ بھی کہتے ہیں،یہ جگہ عرفات میں داخل نہیں ہے،یہاں مسجد ابراہیم ہے۔صحیح یہ ہے کہ ابراہیم قبیس عباسی کی طرف منسوب ہے،اب بھی نماز ظہر و عصر وہاں ہی ہوتی ہے،اسی میدان میں ہی مسجد شریف واقع ہے جسے مسجدنمرہ کہتے ہیں۔

۴۱؎  یعنی جیسے ماہ ذی الحجہ خصوصًا عرفہ کے دن حرم شریف کی زمین میں گناہ کرنا بدترین جرم ہےکہ اس میں تین جرموں کا مجموعہ ہے: گناہ جرم محترم جگہ کی بے حرمتی جرم،حرمت والی تاریخ و مہینہ کی بے ادبی جرم،ایسے ہی مسلمان کا خون بہانا،مال مارنا کئی جرموں کا مجموعہ ہے کہ یہ ظلم بھی ہے اور اﷲ تعالٰی کی ناراضی کا باعث بھی اور میری تکلیف و ایذاء کا سبب بھی ہے،بعض نے فرمایا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے نفس یعنی خون کی حرمت کو حرم شریف کی حرمت سے تشبیہ دی جو دائمی و باقی ہے اور حرمت مال کو اس زمانہ کی حرمت سے تشبیہ دی جو عارضی ہے مگر پہلی توجیہ قوی ہے اور یہ کلام شریف بہت ہی بلیغ ہے۔

۴۲؎  یعنی ہم نے اسلام سے پہلے والی تمام بری رسمیں مٹا دیں،نوحہ،ماتم،بتوں کے نام کے ذبیحہ وغیرہ تمام مٹادیں،اب کوئی وہ رسوم ادا نہ کرے۔

۴۳؎ یعنی اسلام سے پہلے جو ظلمًا خون کردیئے گئے تھے اور ان کا قصاص باقی تھا وہ تمام خون معاف کردیئے گئے اب ان میں سے کسی قاتل پر قصاص نہیں،اب نیا راج ہے نیا راجہ،نیا دور ہے نئے دور والا محبوب صلی اللہ علیہ و سلم۔

۴۴؎  اس بچے کا نام ایاس ابن ربیعہ ابن حارث ابن عبدالمطلب ہے،حارث حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا ہیں،ان کے بیٹے ربیعہ صحابی ہیں جنہوں نے خلافت فاروقی میں وفات پائی۔

۴۵؎ اس طرح کہ بنی سعد و ہذیل قبیلوں میں جنگ ہوئی تھی۔ہذیل کا ایک پتھر ایاس کے لگا جس سے وہ وفات پاگئے۔ مشکوۃ کے بعض نسخوں میں دم ربیعہ ہے بغیر ابن کے،خون سے مراد ربیعہ کے خون کا مطالبہ ہے جس کے وہ ولی ہیں ورنہ مقتول ایاس ابن ربیعہ ہیں نہ کہ خود ربیعہ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن