30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۹؎ اس طرح کہ پہلے بھی اﷲ کا ذکر کیا بعد میں بھی اور درمیان میں دعائیں مانگیں،سنت یہ ہی ہے کہ دعا اﷲ کے ذکر سے گھری ہو کہ ایسی دعا ان شاءاﷲ رد نہیں ہوتی۔
۲۰؎ اولًا ذکر الٰہی پھر دعا پھر ذکر الٰہی یہ ایک بار ہو،اس طرح تین دفعہ عمل کیا،حاجی اسی پر عمل کرے۔
۲۱؎ یعنی صفا کی ڈھلائی اور مروہ کی چڑھائی کے درمیان جو ہموار زمین ہے جسے بطن وادی کہتے ہیں وہاں سعی کی۔سعی کے معنی ہیں دوڑ لگانا،چونکہ اسی جگہ حضرت ہاجرہ دوڑی تھیں اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اسی جگہ سعی فرمائی،اس مقبول بی بی کی پوری نقل اتارنا سنت ہے،مقبولوں کی نقل بھی اچھی کہ اﷲ تعالٰی اصل کے طفیل نقل پر کرم فرمادے،بطن وادی لغۃً پہاڑ یا ٹیلے کے درمیان شگاف کو کہتے ہیں۔
۲۲؎ یعنی جب مروہ شریف کی چڑھائی شروع ہوئی تو پھر معمولی رفتار سے چلنا شروع فرمادیا،دوڑ ختم کردی۔
۲۳؎ یعنی اس قدر چڑھنا کہ کعبہ معظمہ سامنے آجائے،کعبہ معظمہ کو منہ کرنا اﷲ کا ذکر و دعائیں کرنا۔غرضکہ جو کچھ صفا پر کیا وہ ہی مروہ پر بھی کیا،وہ ہی دعائیں و ذکر جو صفا پر کیا تھا وہ ہی مروہ پر کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے پیدل سعی فرمائی سواری پر نہ کی،یہ ہی سنت ہے بلاعذر سواری پر سعی کرنا خلاف سنت ہے۔مسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سواری پر سعی فرمائی وہ عمرہ قضاء کا واقعہ ہے اور وہ سوار ہونا بھی دشواری و معذوری کی وجہ سے تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھنے کے لیے مکہ والے ہجوم بن کر آئے اور حضور کے پاس سے ہٹتے نہ تھے،پیدل سعی ناممکن ہوگئی تھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(مرقات)
۲۴؎ یعنی ہم نے قران کا احرام باندھ لیا اور ہدی ہمارے ساتھ ہے،اب ہم کو عمرہ کر کے احرام کھول دینا جائز نہ رہا۔اور ہم نے تم کو حکم دیا کہ عمرہ کر کے احرام کھول دو شاید تم کو احرام کھولنا گراں گزرے کہ تم ہماری سنت پر عمل کرنے کے دلدادہ ہو تم ہمارے سے اعمال کرنا چاہتے ہو اگر ہمیں احرام سے پہلے یہ خیال آجاتا تو ہم ہدی ساتھ نہ لاتے اور نہ قران کا احرام باندھتے اور ہم بھی عمرہ کر کے کھل جاتے تاکہ تم کو عمرہ پر کھل جانا گراں نہ ہوتا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے قران کیا اور قران ہی افضل ہے۔دوسروں کو عمرہ کر کے کھل جانے کا حکم ایک مصلحت کی بناء پر دیا جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ زمانہ جاہلیت میں حج کے زمانہ میں عمرہ کرنا اور حج کے قریب تک حلال رہنا سخت گناہ سمجھا جاتا تھا،وہ رسم توڑنا تھی۔دوسرے یہ کہ صحابہ کرام حضور کی ہر ادا کی نقل کرنا سعادت سمجھتے تھے۔
۲۵؎ یعنی صرف حج یا عمرے کا احرام بندھا ہو اور اس کے ساتھ ہدی ہوتو ہدی کی قربانی کے بعد احرام کھولے دسویں ذی الحجہ کو مگر جس نے حج یا عمرہ کا احرام باندھا ہو اور اس کے ساتھ ہدی نہ ہو تو وہ عمرے کے افعال ادا کر کے احرام کھول دے اس طرح کہ حج کے احرام کو عمرہ بنادے،اسے فتح حج الی العمرۃ کہتے ہیں۔یہ فتح صرف اس سال ہی صحابہ کے لیے جائز ہوا،اب تاقیامت کسی کو جائز نہیں اب حج کا احرام بعد حج ہی کھل سکتا ہے۔چنانچہ روایات میں ہے کہ بلال ابن حارث نے عرض کیا یارسول اﷲ فتح ہمارے لیے خاص ہے یا آئندہ بھی ہوگا،فرمایا صرف تمہارے لیے خاص طور پر ہے۔ (مرقات)
۲۶؎ چار وجہ سے یہ حکم حاضرین پر گراں ہوا:ایک تو زمانہ حج میں عمرہ کرناکیونکہ اسلام سے پہلے زمانہ حج میں عمرہ گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔دوسرے حج کا احرام عمرہ کر کے کھول دینا اور تیسرے یوم عرفات کے قریب احرام کھولنا۔ چوتھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع میسر نہ ہونا کہ حضور تو احرام میں ہیں اور ان حضرات کے احرام کھل گئے،سرکار کا یہ حکم صرف اس لیے تھا کہ لوگ اس زمانہ میں عمرہ کو گناہ نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع