30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جیسے نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں،رسول تین سو تیرہ،مرسلین چار،ان میں سے ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم افضل الخلق ہیں۔دیکھو ہماری کتاب"امیرمعاویہ"۔یہ حضرات اپنے گھر سے سیدھے مکہ معظمہ نہ پہنچ گئے بلکہ پہلے مدینہ منورہ حاضر ہوئے تاکہ کعبہ ایمان کے ساتھ کعبہ اجسام کی طرف سفر کریں،اب بعض عشاق پہلے مدینہ منورہ حاضر ہوتے ہیں،پھر مکہ معظمہ اسی سنت پرعمل کرنے کے لیے، بعض اس کے برعکس کرتے ہیں وللناس فیما یعشقون مذاھب۔
۳؎ یہ روانگی ۲۵ ذیقعدہ ۱۰ھ بعد ظہر ہوئی جیساکہ ترمذی،ابن ماجہ نے حضرت انس سے اور طبرانی نے حضرت ابن عباس سے روایت کی جس کجاوے پر حضور انور سوار تھے اس کی قیمت چار درہم یعنی ایک روپیہ دو آنے تھی۔(مرقات)
۴؎ اسماء بنت عمیس پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب کی زوجہ تھیں،ان کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کے نکاح میں آئیں،آپ کے بعد حضرت علی مرتضٰی نے نکاح کیا،محمد ابن ابی بکران سے پیدا ہوئے،پھر حضرت علی سے یحیی ابن علی انہیں کے بطن سے پیدا ہوئے۔ (مرقات)محمد ابن ابوبکر صدیق صغر سن صحابی ہیں، ۳۸ھ میں اصحاب امیر معاویہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔(مرقات)
۵؎ یعنی میں اس حالت میں احرام یا حج کیسے ادا کروں۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے ذوالحلیفہ میں عصر، مغرب،عشاء اور اگلی فجر و ظہر پڑھیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تمام ازواج پاک آپ کے ساتھ تھیں۔(مرقات) حضرت اسماء کا جوش ایمانی اور شوق حج قابل داد ہے کہ اس حالت میں بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوگئیں۔
۶؎ یعنی نفاس نہ تو احرام سے مانع ہے نہ ادائے حج و عمرہ سے صرف طواف ممنوع ہے کہ وہ مسجد میں ہوتا ہے اور نفساء کو مسجد میں آنے کی اجازت نہیں اور احرام کے وقت یہ عورت نفل نہ پڑھے کہ نفاس میں نماز پڑھنا حرام ہے ۔
۷؎ ظاہر یہ ہے کہ حضور انور نے احرام کے نفل علاوہ فرض ظہر کے ادا کئے،پھر قصواء پر سوار ہوئے۔قصواء قصی بمعنی دوری سے بنا،یا قصوٌ بمعنی کان کٹنے سے بنا،چونکہ یہ اونٹنی بہت تیز رفتار اور دور تک جانے والی تھی یا چونکہ اس کے ایک کان کا کچھ حصہ کٹا ہوا تھا اس لیے اسے قصواء کہتے تھے،یہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی سواری کی خاص اونٹنی تھی۔
۸؎ یہاں اھل کے معنی ہیں بلند آواز سے پکارا،توحید سے مراد ہے رب تعالٰی کی وحدانیت یعنی رب کی توحید پکاری،چونکہ تلبیہ میں لاشریك لك بھی ہوتا ہے اس لیے بالتوحید فرمایا۔بعض شوافع نے توحید کے معنی اذا و حج کئے یعنی صرف حج کا تلبیہ فرمایا اور اس سے ثابت کیا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے افراد کیا مگر یہ معنی بہت ہی بعید ہیں،قوی وہ ہی ہے جو عرض کیا گیا لہذا یہ جملہ شوافع کی تائید نہیں اور احناف کے خلاف نہیں۔
۹؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ حاجی کا لبیك کہنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پکار اور بلاوے کا جواب ہے۔چنانچہ حاکم نے حضرت ابن عباس سے روایت فرمایا کہ جب جناب خلیل بناء کعبہ سے فارغ ہوئے تو رب نے فرمایا لوگوں کو حج کے لیے بلاؤ،عرض کیا مولٰی میری آواز سب تک کیسے پہنچے گی فرمایا پکارنا بلانا تمہار ا کام ہے تمہاری آواز سب تک پہنچاناہمارا کام۔چنانچہ آپ نے پکارا زمین وآسمان میں آپ کی آواز پہنچی اور یہ لَبَّیْك اسی پکار کا جواب ہے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ بحکم پروردگار نبی کی آواز زمین و آسمان میں پہنچ سکتی ہے،آج بذریعہ ریڈیو (Radio)تار(Telegraph)کی طاقت سے لاکھوں میل دور آواز پہنچا دی جاتی ہے تو نورکی طاقت نار سے کہی زیادہ ہے۔
۱۰؎ کفار عرب اسلام سے پہلے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا سخت گناہ اور بدترین جرم سمجھتے تھے ماہ صفر سے عمرہ جائز مانتے تھے۔چنانچہ حضرات صحابہ کا اس موقعہ پر عمرہ کی طرف دھیان بھی نہ گیا۔بخاری نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی کہ حضور انور نے احرام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع