30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ توشہ سے مراد اپنا سفر کا سامان نان و نفقہ و دیگر خرچ ہے اور اپنے بال بچوں کے گھر کا خرچ اس کی واپسی تک اور سواری میں وہ ساری سواریاں داخل ہیں جن سے مکہ معظمہ کا راستہ طے ہوجیسے ہم پاکستانیوں کے لیے کراچی تک ریل پھر کراچی سے جدہ تک جہاز اور جدہ سے مکہ معظمہ تک لاری بس،یہ سواریاں مختلف فاصلوں کے لیے مختلف ہیں،یہ حدیث امام مالک کے خلاف ہے کہ ان کے ہاں پیدل چلنے کی طاقت رکھنے والے پر پیدل حج فرض ہے۔
|
2527 -[23] وَعَنْهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا الْحَاج؟ فَقَالَ: «الشعث النَّفْل» . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْحَجِّ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْعَجُّ وَالثَّجُّ» . فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السَّبِيلُ؟ قَالَ: «زَادٌ وَ رَاحِلَةٌ» رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ. وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ فِي سُنَنِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يذكر الْفَصْل الْأَخير |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھاعرض کیا حاجی کون ہے فرمایا میلا بُو والا ۱؎ پھر دوسراکھڑا ہوا عرض کیا یارسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کون سا حج افضل ہے ۲؎ فرمایا خون بہانا شور مچانا ۳؎ پھر دوسرا اٹھا عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سبیل کیا چیز ہے ۴؎ فرمایا توشہ اور سواری ۵؎ اسے شرح سنہ میں روایت کیا اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں مگر انہوں نے آخری چیز بیان نہ کی۔ |
۱؎ سوال یہ تھا کہ کامل حاجی کون ہے؟ فرمایا جس پر دو علامتیں ہوں پراگندگی بال سر میلا کیونکہ بحالت احرام بال ٹوٹنے کے اندیشہ سے سر کم دھوتے ہیں اور بو والا کیونکہ بحالت احرام خوشبو لگانا منع ہے اور بسا اوقات پسینہ اور لوگوں کے اژدہام سے کچھ بُو سی محسوس ہونے لگتی ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ حاجی بحالت حج دنیاوی تکلفات سے ایک دم کنارہ کش ہوجاتا ہے۔
۲؎ یعنی ارکان حج کے بعد کون سا عمل حج میں بہتر ہے،زیادہ کون سی صفات ہیں جن سے حج افضل ہوجاتاہے،ارکان تو سب ہی ادا کرتے ہیں۔شعر
حاجی تو سارے کہلاویں حج کرے کوئی ایک ہزاروں میں تو ہے نہیں لاکھوں میں جا دیکھ
۳؎ یعنی احرام باندھتے ہی بلند آواز سے تلبیہ کہتے رہنا اور دسویں ذوالحجہ کو قربانی دینا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے سارے اعمال حج مراد ہیں کیونکہ شور مچانا،تلبیہ کہنا اول عمل ہے اور قربانی آخر عمل،درمیان کے اعمال ان میں خود ہی آگئے یعنی تلبیہ سے قربانی تک سارے عمل افضل ہیں۔
۴؎ یعنی رب تعالٰی نے جو فرمایا:"وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیۡتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا"کہ بیت اﷲ کا حج اس پر فرض ہے جو وہاں تک راستہ کی طاقت رکھتا ہو،راستہ سے کیا مراد ہے۔
۵؎ بعض اماموں نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ فرضیت حج کے لیے صحت و تندرستی ضروری نہیں اگر مدقوق مریض یا بہت بوڑھے کے پاس مال آیا جو سواری پر بیٹھتا تو کیا حرکت بھی نہیں کرسکتا اس پر بھی حج فرض ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تندرستی کا ذکر نہ فرمایا مگر یہ استدلال کچھ ضعیف ساہے اس لیے کہ یہاں تو راستہ کے امن کا بھی ذکر نہیں حالانکہ اگر امن نہ ہو تو بالاتفاق حج فرض نہیں،اگرکہا جائے کہ سواری میں راستہ کا امن بھی داخل ہے تو جواب یہ ہے کہ سواری میں اس پر بیٹھ سکنے کی طاقت بھی داخل ہے لہذا یہ حدیث احناف کے خلاف نہیں،ہاں جو پہلے سے مالدار تھا مگر حج نہ کیا پھر بیمار یا بہت بوڑھا ہوگیا تو اس پر حج فرض ہے۔
|
2528 -[24] وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ قَالَ: «حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ |
روایت ہے حضرت ابو رزین عقیلی سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج و عمرہ کی طاقت رکھتے ہیں نہ سوار ہونے کی ۱؎ فرمایا اپنے باپ کی طرف سے حج و عمرہ کرو ۲؎(ترمذی،ابو داؤد،نسائی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع