دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2521 -[17]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: (وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حَجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِليهِ سَبِيلا)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَهِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَجْهُولٌ والْحَارث يضعف فِي الحَدِيث

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص توشہ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اﷲ تک پہنچا سکے  ۱؎ پھر حج نہ کرے تو اس میں فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر ۲؎  اور یہ اس لیے ہے کہ اﷲ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے کہ لوگوں پر اﷲ کے لیے بیت اﷲ کا حج فرض ہے جو وہاں تک کا راستہ طے کرسکے ۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے جس کی اسناد میں کچھ گفتگو ہے،ہلال ابن عبداﷲ مجہول آدمی ہے اور حارث حدیث میں ضعیف مانا جاتا ہے۴؎

۱؎  زاد سے مراد بقدر ضرورت اپنا اور اپنے بچوں کا خرچ ہے یعنی اپنا تو سفر کا خرچ اور اپنے لوٹنے تک بچوں کا گھر کا خرچ،یہ مصارف مکہ معظمہ سے قریب و بعد اور زمانہ کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے اس لیے اس کا تقرر نہیں ہوسکتا اور سواری سے مراد ہر قسم کی ضروری سواری ہے جیسے آج کل ریل،جہاز، موٹر کار  کا  خرچ۔ملکیت سے مراد سواری کے نفعے کی ملکیت کی ہے لہذا جو سواری کے کرایہ پر قادر ہو اس پر حج فرض ہے۔اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ فرمایئے۔سواری میں جانے آنے کا خرچ مرادہے نہ کہ صرف جانے کا۔

۲؎ یعنی اس تارک حج کی موت اور یہودی و عیسائی کی موت میں فرق نہیں کہ اﷲ تعالٰی نہ اس سے راضی ہوگا نہ ان سے اگرچہ دونوں پر ناراضگیوں میں فرق ہےیا یہ مطلب ہے کہ اگر یہ شخص حج کا منکر ہو کر مرا  تو  اس میں اور اہلِ کتاب میں کفر میں فرق نہیں اور اگر حج کا تارک ہو کر مرا تو کفران یعنی ناشکری میں فرق نہیں۔بہرحال اس کلام میں انتہائی غضب کا اظہار ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حج نہ کرنا کفر ہے۔

۳؎ اس آیت کے آخر میں"وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیۡنَ"حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے پوری آیت کریمہ تلاوت فرمائی ہوگی کہ محل استدلال آخر میں ہے مگر راوی نے صر ف اس قدر تلاوت کی۔

۴؎ یعنی اس حدیث کا ایک راوی تو مجہول ہے جس کے حالات کا پتہ نہیں اور دوسرا ضعیف ہے۔ مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث مرفوع بہت اسنادوں سے مروی ہے،اس کی روایت ابوامامہ سے بھی ہے اور اسے ابن عدی نے ابوہریرہ سے بھی روایت کیا اور جب ضعیف حدیث مختلف اسنادوں سے مروی ہوجائے تو اس میں قوت آجاتی ہے اور حضرت عمر پر موقوف صحیح ہے۔

2522 -[18]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا صَرُورَةَ فِي الإِسلامِ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اسلام میں ترک دنیا نہیں  ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎ صرورت بروزن ضرورت،صرٌّ سے مشتق ہے بمعنی روکنا یا منع کرنا یا باز رہنا۔ترک دنیا یعنی تَبَّلْ کو بھی صرورۃ کہتے ہیں اور ترک حج کو بھی یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں یعنی اسلام میں تارک الدنیا ہو جانا منع ہے کہ کوئی نکاح کرنے یا اچھا کھانا پینا ترک کرنے کا عہد کرے یا اسلام میں قادر و مالدار کو حج نہ کرنا منع ہے۔غالبًا صاحب مشکوٰۃ کے نزدیک صرورت کے یہ ہی معنی ہیں اسی لیے وہ یہ حدیث حج کے بیان میں لائے۔

2523 -[19]

وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيُعَجِّلْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جو حج کا ارادہ رکھتا ہو تو جلدی کرے  ۱؎ (ابوداؤد،دارمی)۲؎

۱؎ کیونکہ موت آجانے اور مال یا قوت چلے جانے کا  ہر وقت اندیشہ و خطرہ ہے اور ایک حج رہ جانے پرسال بھر تک انتظار کرنا ہے سال کس نے دیکھاہے۔فقہا فرماتے ہیں کہ حج علی الفور واجب ہے کہ بلاوجہ دیر لگانا منع ہے،بلکہ امام ابویوسف و امام مالک کے ہاں یہ شخص فاسق ناقابل گواہی ہے،دیگر اماموں کے ہاں فاسق نہیں۔خیال رہے کہ تمام آئمہ کے ہاں حج علی الزمان واجب ہے یعنی جب بھی کرے گا ادا ہی ہوگا،قضا ء نہ ہوگا کہ اس کا وقت عمر بھر ہے۔اس میں اختلاف ہے کہ بلاوجہ دیر لگانا فسق ہے یا نہیں۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو مالدار ہوتے ہیں بچوں کی شادیاں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن