دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم

2516 -[12] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ: ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ: الْجُحْفَةَ وَ لِأَهْلِ نَجْدٍ: قَرْنَ الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ: يَلَمْلَمَ فَهُنَّ لَهُنَّ وَ لِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ وَكَذَاكَ وَكَذَاكَ حَتَّى أهل مَكَّة يهلون مِنْهَا

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ والوں کے لیے جو  ذوالحلیفہ کو (میقات)احرامگاہ بنایا اور شام والوں کے لیے حجفہ کو  ۱؎ اور نجدیوں کے لیے قرن منازل کو ۲؎ اور یمن والوں کے لیے یلملم کو ۳؎ یہ میقات ان کے باشندوں کے لیے بھی ہیں اور ان کے لیے بھی جو ان کا باشندہ نہ ہو مگر ان پر سے گزرے ۴؎ جو حج یا عمرہ  کا  ارادہ کرتا ہو۵؎ پھر جو ان میقاتوں کے اندر کا باشندہ ہو تو اس کا احرام اپنے گھر سے ہے اور اسی طرح حتی کہ مکہ والے مکہ سے ہی احرام باندھیں ۶؎(مسلم،بخاری)

۱؎  میقات وہ جگہ کہلاتی ہے جہاں سے حاجی یا عمرہ کرنے والے کو بغیر احرام آگے بڑھنا حرام ہے۔مکہ مکرمہ کے چار راستے ہیں،ان چاروں راستوں کے لیے یہ چار حدود ہیں۔چنانچہ مدینہ والوں کے لیے مقام ذوالحلیفہ میقات ہے جو مدینہ طیبہ سے قریبًا تین میل ہے جسے اب بیر علی کہتے ہیں فقیر نے زیارت کی ہے بعض روافض کہتے ہیں کہ یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کنوئیں میں جنات سے جنگ کی تھی اس لیے اسے بیر علی کہا جاتا ہے مگر یہ محض جھوٹ ہے۔(مرقات)اب شام کے لوگ مدینہ منورہ کے راستے جاتے ہیں لہذا ا ن کا میقات بھی یہ ہی ہے ان کے پرانے راستے پر حجفہ میقات تھا،حجفہ مکہ معظمہ سے پچاس۵۰ کوس جانب شام ہے۔حجفہ کے معنی ہیں سیلاب کا بہاؤ،یہاں ایک دفعہ زبردست سیلاب آیا تھا اس لیے حجفہ نام ہوا،اصلی نام مہیعہ ہے اسے ایک شخص مہیعہ نامی نے آباد کیا تھا۔(مرقات)

۲؎ نجد کے معنی ہیں اونچی زمین غور کا مقابل،اب یہ عرب کا ایک صوبہ ہے جو یمامہ سے عراق تک پھیلا ہوا ہے قرن منازل کے معنی ہیں منزلوں کے ملنے کی جگہ یہ ایک گول پہاڑ ہے چکنا۔

۳؎ یلملم یا الملم بھی ایک پہاڑ ہے،ہندی اور پاکستانیوں کا میقات بھی یہ ہی ہے جو کامران سے نکل کر سمندر میں آتا ہے وہاں ہی ہم لوگ احرام باندھتے ہیں کیونکہ ہم لوگ براستہ عدن مکہ معظمہ جاتے ہیں،عدن یمن کا مشہور شہر ہے۔

۴؎ یعنی جو حاجی ان مقامات سے گزرے وہ ان ہی جگہوں سے احرام باندھے خواہ یمن کا باشندہ ہو۔

۵؎ یعنی احرام باندھنا ان مقامات پر اسے لازم ہے جو بارادہ حج یا عمرہ یہاں سے گزرے مگرجو  مکہ معظمہ جا ہی نہ رہا ہو تو ان میقاتوں پر اسے احرام باندھنا لازم نہیں جیسے اب جو حجاج پہلے مدینہ منورہ جانا چاہیں وہ میقات سے بغیراحرام گزر جائیں،پھر زیارت مدینہ منورہ کے بعد جب مکہ معظمہ چلیں تو  ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں۔امام شافعی اس جملہ کے معنی یہ کہتے ہیں کہ جو شخص مکہ معظمہ تو جارہا ہو مگر حج یا عمرہ کے لیے نہیں بلکہ کسی اور کام کے لیے وہ بغیر احرام میقات سے گزر سکتا ہے،ہمارے مذہب میں بیرون میقات رہنے والا کسی نیت سے مکہ معظمہ جائے میقات پر اسے احرام لازم ہے،ہاں خود مکہ والا اگر کسی وجہ سے میقات سے باہر گیا پھر مکہ معظمہ لوٹا اسے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں جیسے دن رات مکہ معظمہ سے لوگ طائف آتے جاتے ہیں ہماری دلیل وہ حدیث ہے"لایجاوز احد المیقات الا محرما"کوئی شخص میقات سے بغیر احرام آگے نہ بڑھے اور اس جملہ کے دو معنی ہیں جو عرض کیے گئے کہ مکہ معظمہ جانے کا ارادہ کرے تو احرام باندھے۔

۶؎ یعنی میقات کے اندر رہنے والے حج کا احرام اپنے گھر سے باندھیں حتی کہ مکہ والے بھی اپنے گھر سے باندھیں لہذا جدہ والے حج یا عمرہ کا احرام گھر باندھ کر ہی چلیں۔خیال رہے کہ مکہ والے عمرہ کا احرام حرم شریف کی حدود سے باہر آکر باندھیں گے اور حج کا احرام گھر سے کیونکہ عمرہ مکہ معظمہ میں ادا ہوتا ہے اور حج بیرون حرم عرفات میں ادا ہوتا ہے تو  کچھ سفر کرانے کے لیے شریعت نے مکہ کے عمرہ کے لیے یہ پابندی لگائی،اب مقام تنعیم مسجد عائشہ سے عمرہ کا احرام باندھاجاتا ہے۔

2517 -[13]

وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت جابر سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا مدینہ والوں کا احرام گاہ  ذوالحلیفہ سے ہے اور ان کا دوسرا راستہ حجفہ ہے  ۱؎  اور عرق والوں کا احرام گاہ ذات عرق سے ہے ۲؎  اور نجد والوں کا احرام گاہ قرن ہے اور یمن والوں کا احرام گاہ یلملم ہے۔(مسلم)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن