30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چونکہ حج بدنی و مالی عبادات کا مجموعہ ہے اس لیے اس کا بھی بڑا درجہ ہے۔حج مقبول و مبرور وہ ہے جو لڑائی جھگڑے گناہ و ریاء سے خالی ہو اور صحیح ادا کیا جائے۔خیال رہے کہ بعض احادیث میں ایمان کے بعد نماز کا ذکر ہے مگر یہاں جہاد کا ذکر آیا اس لیے کہ جہاد فی سبیل اﷲ اکثر نمازی ہی کرتے ہیں یا بعض ہنگامی حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوجاتا ہے،دیکھو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے غزوۂ خندق میں زیادہ مشغولیت کی بنا پر پانچ نمازیں قضاء فرمادیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ہنگامی حالات اور ہوتے ہیں معمول پر پہنچنے کے بعد دوسرے حالات۔
|
2507 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مِنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أمه» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو اﷲ کے لیے حج کرے تو نہ فحش کلامی کرے نہ فسق کی باتیں تو ایسا لوٹے گا جیسے اسے ماں نے آج جنا ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ حج کے بیان میں رفث سے مراد ہوتا ہے بیوی سے صحبت یا صحبت کے اسباب پر عمل یا صحبت کی گفتگو اور فسق سے مراد ہوتا ہے ساتھیوں سے لڑائی جھگڑا یعنی جو رضائے الٰہی کے لیے حج کرے اور حج کو فحش باتوں،لڑائی جھگڑوں سے پاک و صاف رکھے تو گناہ صغیرہ سے تو یقینًا اور کبیرہ سے احتمالًا بالکل صاف ہوجائے گاحقوق العباد تو ادا ہی کرنا پڑیں گے۔حق یہ ہے کہ تاجر حاجی کو بھی ثواب ملے گا مگر مخلص حاجی سے کم۔(مرقات)
|
2508 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزاءٌ إِلا الجنَّةُ» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرہ سے دوسرے عمرہ تک درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے ۱؎ اور مقبول حج کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ علماء فرماتے ہیں کہ دو عمروں کے درمیان کے گناہ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں اور حج مقبول میں گناہ کبیرہ کی معافی کی بھی قوی امید ہے۔
۲؎ یعنی حج مقبول کی جزاء تو یقینًا ہے اس کے علاوہ دنیا میں غنا،دعا کی قبولیت بھی عطا ہوجائے تو رب کا کرم ہے حصر ایک جانب میں ہے۔
|
2509 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن عمْرَة فِي رَمَضَان تعدل حجَّة» |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ماہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی ماہ رمضان میں کسی وقت عمرہ دن یا رات میں اس کا ثواب حج کے برابر ہے۔معلوم ہوا کہ جگہ اور وقت کا اثر عبادت پر پڑتا ہے۔اعلٰی جگہ اور اعلٰی وقت میں عبادت بھی اعلٰی ہوتی ہے۔(مرقات)حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے سارے عمرہ ذیقعدہ میں ہوئے۔
|
2510 -[6] وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ. فَقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: «رَسُولُ اللَّهِ» فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَلَكِ أَجَرٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم مقام روحاء میں ایک قافلہ سے ملے ۱؎ تو فرمایا یہ کون قوم ہے وہ بولے ہم مسلمان ہیں،پھر بولے آپ کون ہیں فرمایا اﷲ کا رسول ۲؎ تب آپ کی خدمت میں کسی عورت نے ایک بچہ آپ کی طرف اٹھایا بولی کیا اس کا بھی حج ہوسکتا ہے۳؎ فرمایا ہاں تجھے ثواب ہے ۴؎(مسلم) |
۱؎ روحاء مدینہ منورہ سے چھتیس۳۶ یا چالیس میل دور مکہ معظمہ کے راستہ پر ایک منزل ہے،یہاں ہی حضرت آمنہ خاتون کا انتقال ہوا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع