30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یہ عرض کرنے والے حضرت اقرع ابن حابس تھے،وہ سمجھے یہ کہ ہر رمضان میں روزے فرض ہوتے ہیں تو چاہیے کہ بقرعید میں حج فرض ہو کہ پھر یہ سوچا کہ اس میں لوگوں کو بہت دشواری ہوگی کیونکہ روزے تو اپنے گھر میں ہی رکھ لیے جاتے ہیں مگر حج کے لیے مکہ معظمہ جانا پڑتا ہے اور اطراف عالم سے ہر سال بیت اللہ شریف پہنچنا بہت مشکل ہوگا اس لیے آپ نے یہ سوال کیا اور بار بار کیا تاکہ مسئلہ واضح ہوجائے۔
۴؎ اس سوال پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خاموشی اس لیے تھی کہ سائل سوال سے باز آجائے تاکہ ہم کو جواب کی ضرورت نہ ہو مگر سائل شوق کی زیادتی سے یہ اشارہ نہ سمجھ سکا۔
۵؎ یعنی پورا جواب تو کیا معنی،اگر ہم صرف ہاں کہہ دیتے تب بھی ہرسال حج فرض ہوجاتا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اﷲ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو احکام شرعیہ کا مالک بنایا ہے کہ آپ کی ہاں اور نہ میں تاثیر ہے جس کے قوی دلائل موجود ہیں کیوں نہ ہو کہ آپ کا کلام وحی الٰہی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوۡحٰی"۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب "سلطنت مصطفی " میں ملاحظہ فرمایئے۔دوسرے یہ کہ بزرگوں سے اعمال اور وظیفوں میں قید یا پابندی نہ لگوانی چاہیے بلا قید عمل کرنا چاہیے۔
۶؎ یعنی ہمارے احکام میں کیوں،کیسے اور کب کہہ کر قید نہ لگائیں ہم شرعی احکام کی تبلیغ ہی کے لیے تو بھیجے گئے ہیں ضروری چیزیں ہم خود بیان فرما دیں گے۔(لمعات)
۷؎ اس طرح کہ انہوں نے زیادہ پوچھ پوچھ کر پابندیاں لگوالیں،پھر ان پابندیوں پر عمل نہ کرسکے یا انہوں نے عمل تو کیا مگر بہت مشکل سے جیسے ذبح گائے کا واقعہ ہوا۔
۸؎ یعنی میرے احکام پر عمل کر نا فرض ہے اور ممنوعات سے بچنا لازم،یہ دونوں کام بقدر طاقت ہیں اگر نماز کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھ لو،اگر جان پر بن جائے تو مردار کھا لو۔اس سے معلوم ہوا کہ جیسے وجوب و فرضیت کے لیے امر ضروری ہے ایسے ہی حرمت و ممانعت کے لیے نہی لازم،جس چیز کا حکم بھی نہ ہو اور ممانعت بھی نہ ہو وہ جائز ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا"۔بعض جو کہتے ہیں کہ جو کام حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے نہ کیا ہو وہ حرام ہے غلط ہے قرآن شریف کے بھی خلاف ہے اور اس قسم کی احادیث کے بھی۔
|
2506 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ» قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» . قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «حَجٌّ مبرورٌ» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل بہتر ہے فرمایا اﷲ رسول پر ایمان لانا ۱؎ عرض کیا گیا پھر کون سا فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا،عرض کیا گیا پھر کون سا فرمایا مقبول حج۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ افضل سے مراد درجہ اور ثواب میں زیادہ،چونکہ ایمان عقائد کا نام ہے اور عقیدہ دل کا عمل ہے اس لیے ایمان کو اعمال میں داخل کیا گیا،نحوی لوگ جاننے پہچاننے اور ماننے کو افعال قلوب کہتے ہیں،چونکہ سارے اعمال کی صحت و قبولیت ایمان پر موقوف ہے اس لیے ایمان کا سب سے پہلے ذکر کیا گیا۔
۲؎ اﷲ کی راہ کا جہاد وہ جنگ ہے جس میں محض رب کو راضی کرنا اور اسلام کی اشاعت منظور ہو،مال،ملک،عزت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرنا فتنہ ہے جہاد نہیں۔شعر
جنگ شاہاں فتنہ و غارت گری است جنگ مؤمن سنت پیغمبری است
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع