دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۲؎  یعنی میں اس کے بار بار سوال کرنے سے شرما جاتی ہوں اسے خالی لوٹانے میں غیرت آتی ہے اور پاس کچھ ہوتا نہیں جو  دوں، اس کشمکش میں کیا کروں۔اس میں فقراء کی شکایت نہیں ہے بلکہ شرعی مسئلہ پوچھنا ہے کہ ایسی مجبوریوں میں اسے منع کردینا ناجائز تو نہیں۔

۳؎ جلی کھری فقط مثال کے لیے ہے مراد بہت معمولی غیرقیمتی چیز ہے یعنی یہ نہ سوچو کہ کوئی اعلیٰ چیز ہو تو ہی دوں بلکہ ادنے چیزبھی دے ڈالو۔خیال رہے کہ خود حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مساکین کو کچھ نہیں دیا،وہ تعلیم مسئلہ کے لیے تھا کہ بلا ضرورت سوال جائز نہیں یہ تبلیغ تھی نہ کہ سائل کا رد۔اس تعلیم کا نتیجہ یہ ہوگیا تھا کہ مدینہ پاک میں کوئی بھی شخص بلاسخت مجبوری مانگتا ہی نہ تھا،حضرت ام بجیدکو یہ ارشاد فرمایا کہ چونکہ اب مجبورومعذور لوگ ہی مانگتے ہیں لہذا انہیں محروم نہ پھیرا کرو لہذا یہ حدیث حکیم ابن حزام وغیرہ کی احادیث کے خلاف نہیں۔اب پیشہ ور سائلوں کو منع کردینا بھی جائز بلکہ ضروری ہے۔

1880 -[22]

وَعَن مولى لعُثْمَان رَضِي الله عَنهُ قَالَ: أُهْدِيَ لِأُمِّ سَلَمَةَ بُضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ اللَّحْمُ فَقَالَتْ لِلْخَادِمِ: ضَعِيهِ فِي الْبَيْتِ لَعَلَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُهُ فَوَضَعَتْهُ فِي كَوَّةِ الْبَيْتِ. وَجَاءَ سَائِلٌ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ: تَصَدَّقُوا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ. فَقَالُوا: بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ. فَذَهَبَ السَّائِلُ فَدَخَلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَمَّ سَلَمَةَ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ أَطْعَمُهُ؟» . فَقَالَتْ: نَعَمْ. قَالَتْ لِلْخَادِمِ: اذْهَبِي فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكِ اللَّحْمِ. فَذَهَبَتْ فَلَمْ تَجِدْ فِي الْكَوَّةِ إِلَّا قِطْعَةَ مَرْوَةٍ فَقَالَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «فَإِن ذَلِك اللَّحْمَ عَادَ مَرْوَةً لِمَا لَمْ تُعْطُوهُ السَّائِلَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة

روایت ہے حضرت عثمان کے غلام سے فرماتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ کو گوشت کا پارچہ ہدیہ بھیجا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت مرغوب تھا تو انہوں نے خادم سے فرمایا ۱؎ کہ اسے گھر میں رکھ چھوڑو تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھائیں خادمہ نے وہ طاق میں رکھ دیا ایک سائل آیا دروازہ پر کھڑا ہوا بولا اﷲ تمہیں برکت دے ۲؎ کچھ خیرات کرو گھر والوں نے کہا اﷲ تجھے برکت دے سائل چلا گیا۳؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا اے ام سلمہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے جو ہم کھائیں ۴؎ عرض کیا ہاں خادمہ سے بولیں جاؤ وہ گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لاؤ وہ گئیں تو طاق میں پتھر کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہ پایا ۵؎  تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چونکہ تم نے سائل کو گوشت نہ دیا اس لیے وہ گوشت کا پتھر بن گیا۶؎(بیہقی،دلائل النبوۃ)

۱؎  یہاں خادم سے مراد حضرت ام سلمہ کی لونڈی ہیں،خادم کا لفظ مرد و عورت دونوں پر بول دیا جاتاہے۔ پتہ نہیں لگا کہ یہ مولے عثمان کون ہیں اور یہ خادمہ کون تھیں مگر چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں،کوئی ان میں فاسق نہیں اس لیے ان کے نام معلوم نہ ہونا صحت حدیث کے لیے مضر نہیں اور نہ اس سے حدیث مجہول ہو۔

۲؎  اس سے معلوم ہوا کہ سائل کا سوال کرتے وقت اہلِ خانہ کو دعائیں دینا بہتر ہے۔بعض بھکاری صرف دعائیں دیتے ہیں،بعض صرف اپنی محتاجی کا رونا روتے ہیں،بعض کو دیکھا گیا کہ صرف غزلیں اور قصیدے ہی پڑھتے ہیں ہاں بھیک کی نیت سے آیات قرآنیہ پڑھنا سخت ممنوع ہے،دیکھو شامی وغیرہ۔

۳؎ عرب میں یہ دستور ہے کہ جب سائل کو منع کرنا ہوتا ہے تو کبھی کہہ دیتے ہیں"بَارَكَ اﷲُ فِیْكَ" اورکبھی کہہ دیتے ہیں اﷲ کریم اور کبھی کہتے ہیں"اَﷲُ یُغْنِیْكَ عَمَّنْ سِوَاہُ"جیسے ہمارے ہاں کہہ دیتے ہیں معافی دے یا برکت ہے وغیرہ۔غرضکہ سائل کو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن