30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۵؎ یہ اگر مگر شک کے لیے نہیں بلکہ امتحان ہی کے لیے ہے۔ظاہر یہ ہے کہ فرشتہ کی یہ بددعا اسے لگی اور وہ پھر فقیر اور کوڑھی ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا کہ فقیروں کے بھیس میں کبھی صاحبِ دل بھی آجاتے ہیں اسی لیے رب نے فرمایا:"وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنْہَرْ"۔شعر
خاکساران جہاں رابحقارت منگر توچہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد
۱۶؎ اپنی صورت کی شرح ابھی کی جاچکی ہے کہ اس سے مراد اس گنجے کی صورت ہے یعنی گنجا اور فقیر بن کر آیا تھا یا خود فرشتہ وہ صورت جس میں دیتے وقت آیا تھا،اس سے مقصود گنجے کی ناشکری کا اظہار ہے۔
۱۷؎ کیونکہ اﷲ تعالٰی کی امدادحقیقی ہے اور بندے کی مجازی اس لیے ثُمَّ فرمایا گیا تاکہ دونوں مددوں میں فرق معلوم ہو۔حدیث شریف میں ہے یہ نہ کہو کہ اگر اﷲ چاہے اور فلاں چاہے بلکہ یوں کہو اﷲ چاہے پھر فلاں چاہے اور ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ یہ حکم بھی استحبابی ہے ورنہ واؤ سے بھی کہہ سکتے ہیں جس کی دلیل قرآن شریف سے پیش کی گئی۔
۱۸؎ یا اس طرح کہ اس کو فروخت کرکے قیمت سے توشہ اور سواری حاصل کرلوں یا اس طرح کہ بکری کو اپنے ساتھ رکھوں اور اس کا دودھ پیتا اور فروخت کرتا ہوا چلا جاؤں،دوسرے معنے زیادہ ظاہر ہیں کہ اگر قیمت مقصود ہوتی تو اس سے پیسے ہی کیوں نہ مانگ لیتا لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بکری سے سفر کیسے ہوگا وہ تو سواری کے لائق نہیں جیسا کہ منکرین حدیث کہتے ہیں۔
۱۹؎ عبارت حدیث سے دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں:ایک یہ کہ یہ شخص مادر زاد اندھا نہ تھا بلکہ پہلے انکھیارا تھا بعد میں نابینا ہوا،ورنہ روشنی لوٹانے کے کیا معنے ہوتے،نیز عربی میں مادر زاد اندھے کو اَکْمَہْ کہتے ہیں اور عارضی اندھے کو اعمیٰ۔دوسرے یہ کہ یہ صدقہ فرضی نہ تھا بلکہ نفلی تھا کیونکہ صدقہ فرضی مقرر ہوتا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سارا مال فقیر کے سامنے رکھ دینا جتنا چاہے وہ لے لے اول درجہ کی سخاوت ہے۔
۲۰؎ سبحان اﷲ! یہ ہوا اس امتحان کا نتیجہ کہ وہ دونوں دنیوی و اخروی غضب میں آگئے کہ ان کا مال بھی گیا اور صحت بھی اور رب تعالٰی کی ناراضی ان سب کے علاوہ،ادھر اس نابینا کے پاس مال بھی رہا آنکھیں بھی،خدا کی رضا اس کے سوا۔اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کا ارادہ بھی اچھا ہے،دیکھو اس سے صدقہ لیا نہ گیا مگر چونکہ وہ دینے پر تیار ہوگیا تھا اس لیے فائدہ پہنچ گیا۔
|
1879 -[21] وَعَن أم بجيد قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمِسْكِينَ لِيَقِفُ عَلَى بَابِي حَتَّى أَسْتَحْيِيَ فَلَا أَجِدُ فِي بَيْتِي مَا أَدْفَعُ فِي يَدِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْفَعِي فِي يَدِهِ وَلَوْ ظِلْفًا مُحْرَقًا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ام بجید سے ۱؎ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی غریب میرے دروازہ پر کھڑا ہوتاہے حتی کہ میں شرما جاتی ہوں ۲؎ اور اپنے گھر میں کچھ پاتی نہیں جو اس کے ہاتھ میں دوں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے ہاتھ میں کچھ ضرور دے دو اگرچہ جلی کھری ہو۳؎(احمد،ابوداؤد، ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ |
۱؎ آپ کا نام حواء بنت یزید ابن سکن ہے،حضرت اسماء بنت یزید کی بہن ہیں،صحابیہ ہیں انصاریہ ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع