دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

کرکے دوسری بستی میں کسی عالم کے پاس توبہ کرنے جارہا تھا رستہ میں مر گیا،رب تعالٰی نے حکم دیا کہ یہ جس بستی سے قریب ہو اسی کے احکام اس پر جاری کئے جائیں،ناپا  گیا تو بالکل بیچ میں تھا تو گناہ کی بستی پیچھے ہٹائی گئی اور توبہ کی بستی آگے بڑھائی،خود اس کی لاش کو حرکت نہ دی گئی اس کے احترام کی وجہ سے،اس نالہ کے کنارے والے کھیتوں کو بھی اس کے طفیل پانی مل گیا ہوگا۔

۴؎  غالب یہ ہے کہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اس کا نام نہ بتایا بلکہ فلاں فرما دیا یہ راوی نہیں بھولے ہیں اور فلاں فرمانا اسی لیے ہےکہ نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔اس سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بے علمی یا کم علمی ثابت نہیں ہوتی۔

۵؎  یعنی رب تعالٰی کے ہاں تیری یہ عزت کہ تیرے نام کی دہائی بادلوں میں ہے اور تیرے لیے دور سے بادل لائے جاتے ہیں، تیری کسی نیکی کی وجہ سے ہے بتا وہ خاص نیکی کون سی تو کرتا ہے۔معلوم ہوا کہ کسی کی چھپی ہوئی نیکیاں پوچھنا تاکہ خود بھی وہ نیکی کرے جائز بلکہ بہتر ہے،قرآن پاک جوفرماتاہے:"وَلَا تَجَسَّسُوْا"وہاں لوگوں کی عیب جوئی مراد ہے یعنی لوگوں کے خفیہ عیب مت ڈھونڈو،لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔

۶؎ یعنی میرے پاس اور تو کوئی نیکی نہیں صرف یہ ہے کہ اس کی یپداوار گناہ میں خرچ نہیں کرتا،اپنے بچوں سے روکتانہیں خدا کا حق بھولتا نہیں ساری ایک دم خرچ نہیں کردیتا اس کا تہائی خیرات کرنا نفلی صدقہ بھی تھا ورنہ بنی اسرائیل کے ہاں ہر مال کی زکوۃ چوتھائی حصہ تھی،ہمارے ہاں پیداوار کی زکوۃ دسواں یا بیسواں حصہ ہے اورچاندی سونے وغیرہ کی چالیسواں حصہ۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اپنی خفیہ نیکیاں کسی کو بتانا تاکہ وہ بھی اس پر عمل کرے ریا نہیں بلکہ تبلیغ ہے فخر نہیں بلکہ رب تعالٰی کا شکر ہے۔

1878 -[20] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ ثَلَاثَة فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى فَأَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ لَوْنٌ حَسَنٌ وَجِلْدٌ حَسَنٌ وَيَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ» قَالَ: «فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا قَالَ فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْإِبِلُ - أَوْ قَالَ الْبَقر شكّ إِسْحَق - إِلَّا أَنَّ الْأَبْرَصَ أَوِ الْأَقْرَعَ قَالَ أَحَدُهُمَا الْإِبِلُ وَقَالَ الْآخَرُ الْبَقَرُ قَالَ فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا» قَالَ: «فَأتى الْأَقْرَع فَقَالَ أَي شَيْء أحب إِلَيْك قَالَ شَعَرٌ حَسَنٌ وَيَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ» . قَالَ: " فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ وَأُعْطِيَ شَعَرًا حَسَنًا قَالَ فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْبَقَرُ فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا قَالَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا» قَالَ: «فَأَتَى الْأَعْمَى فَقَالَ أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ أَنْ يَرُدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ بِهِ النَّاسَ» . قَالَ: «فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ بَصَرَهُ قَالَ فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ الْغَنَمُ فَأُعْطِيَ شَاة والدا فأنتج هَذَانِ وَولد هَذَا قَالَ فَكَانَ لِهَذَا وَادٍ مِنِ الْإِبِلِ وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْبَقَرِ وَلِهَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ» . قَالَ: «ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينٌ قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحسن وَالْجَلد الْحسن وَالْمَال بَعِيرًا أتبلغ عَلَيْهِ فِي سَفَرِي فَقَالَ الْحُقُوق كَثِيرَة فَقَالَ لَهُ كَأَنِّي أَعْرِفُكَ أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيرًا فَأَعْطَاكَ اللَّهُ مَالًا فَقَالَ إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ» . قَالَ: «وَأَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا وَرَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ عَلَى هَذَا فَقَالَ إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ» . قَالَ: «وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَهَيْئَتِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ أَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً أَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي فَقَالَ قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ فَوَاللَّهِ لَا أجهدك الْيَوْم شَيْئا أَخَذْتَهُ لِلَّهِ فَقَالَ أَمْسِكْ مَالَكَ فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فقد رَضِي عَنْك وَسخط على صاحبيك»

روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے کوڑھی گنجا اور اندھا اﷲ تعالٰی نے ان کا امتحان لینا چاہا ۱؎ تو ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا کہ کوڑھی کے پاس آیا بولا تجھے کیا چیز پسند ہے وہ بولا اچھا رنگ اوراچھی کھال اور یہ بیماری جاتی رہے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے گھن کرتے ہیں۲؎ حضور نے فرمایا کہ فرشتہ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی اور اسے اچھا رنگ اچھی کھال دیدی گئی۳؎ فرشتہ بولا تجھے کون سا مال پسند ہے وہ بولا اونٹ یا حضور نے فرمایا گائے،اسحاق کو شک ہے مگر کوڑھی اور گنجے میں سے ایک نے اونٹ کہا تھا اور دوسرے نے گائے ۴؎  فرمایا کہ اسے گیابھن اونٹنی دے دی گئی فرشتے نے کہا اﷲ تجھے اس میں برکت دے ۵؎ فرمایا کہ پھر فرشتہ گنجے کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ تجھے کیا چیز پسند ہے وہ بولا اچھے بال اور یہ کہ میری بیماری جاتی رہے جس سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں فرمایا کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کی گنج جاتی رہی فرمایا کہ اسے اچھے بال دے دیئے گئے ۶؎ پوچھا تجھے کون سا مال پسند ہے بولا گائے تو اسے گیابھن گائے دی اور کہا کہ اللہ تجھے اس میں برکت دے فرمایا پھر وہ اندھے کے پاس پہنچا کہا تجھے کون سی چیز پسند ہے وہ بولا کہ اﷲ مجھے میری آنکھیں لوٹا دے جس سے میں لوگوں کو دیکھو فرمایا کہ اس نے اندھے پر ہاتھ پھیرا تو اﷲ نے اس کی بینائی لوٹا دی۷؎ پھر پوچھا کہ تجھے کون سا مال پسند ہے کہا بکریاں اسے گیابھن بکری دے دی پھر ان دونوں جانوروں نے بچے دیئے اور یہ بھی بیاہی تو اس کے پاس اونٹوں کا جنگل ہوگیا اور اس کے پاس گایوں کا جنگل اور اس کے پاس بکریوں کا جنگل ۸؎ فرمایا پھر فرشتہ کوڑھی کے پاس اپنی اسی شکل و صورت میں آیا۹؎ بولا مسکین آدمی ہوں بحالت سفر میرے سارے اسباب جاتے رہے ۱۰؎  تو اب اﷲ کی توفیق پھر تیری مدد کے بغیر گھر نہیں پہنچ سکتا ۱۱؎ میں تجھ سے اس خدا کے نام پر ایک اونٹ مانگتا ہوں جس نے تجھے اچھا رنگ اچھی کھال اور مال دیا تاکہ میں اپنے سفر میں مقصد پر پہنچ جاؤں۱۲؎ تو وہ بولا کہ حقوق مجھ پر بہت ہیں ۱۳؎ فرشتہ بولا میں شاید تجھے پہچانتا ہوں تو کوڑھی فقیر نہ تھا؟ کہ تجھ سے لوگ گھن کرتے تھے پھر تجھے اﷲ نے مال دیا وہ بولا کہ میں تو اس مال کا پشت درپشت وارث ہوا ہوں ۱۴؎ فرشتہ بولا کہ اگر تو جھوٹا ہو تو اﷲ تجھے جیساتھا ویسا ہی کردے ۱۵؎  فرمایا پھر فرشتہ گنجے کے پاس اسی صورت میں آیا اس سے وہی کہا جو کوڑھی سے کہا تھا اور اس نے ویسا ہی جواب دیا جو اس نے دیا تھا ۱۶؎ فرشتہ بولا اگر تو جھوٹا ہو تو اﷲ تجھے ویسا ہی کردے جیسا تو تھا فرمایا پھر وہ اپنی شکل و صورت میں اندھے کے پاس آیا بولا مسکین و مسافر ہوں میرے سفر میں اسباب منقطع ہوچکے ہیں آج خدا تعالٰی کی پھر تیری مدد کے بغیر میں منزل تک نہیں پہنچ سکتا۱۷؎ میں تجھ سے اس اﷲ کے نام جس نے تجھے آنکھیں لوٹائیں ایک بکری مانگتا ہوں جس کے ذریعہ اپنے سفر میں گھر پہنچ سکوں ۱۸؎ وہ بولا میں اندھا تھا اللہ نے مجھے روشنی لوٹائی تو جو چاہے لے لے اور جو چاہے چھوڑ دے رب کی قسم آج تو جو کچھ اﷲ کے نام پر لے گا میں تجھے اس سے منع نہ کروں گا ۱۹؎ فرشتہ بولا اپنا مال رکھ تم سب کی آزمائش کی گئی ہےتجھ سے رب راضی ہوا اور تیرے دو یاروں سے ناراض ۲۰؎ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن