30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے بیت المال سے خلافت کی تنخواہ وصول کی ہے۔دوسرے یہ کہ جب کام کرنے والے کی نیت خیر ہو تو تنخواہ لینے سے ان شاءاﷲ ثواب کم نہ ہوگا۔صرف تنخواہ کے لیے دینی کام نہ کرے تنخواہ تو گزارے کے لیے وصول کرے اصل مقصد دینی خدمت ہو۔تیسرے یہ کہ غنی بھی یہ اجرتیں لے سکتا ہے صرف فقیر ہی کو اجازت نہیں،پھر لے کر خودبھی کھاسکتا ہے اس سے خیرات بھی کرسکتا ہے۔خیال رہے کہ امام احمد کے ہاں ہدیہ قبول کرنا واجب ہے،اس حدیث کی بنا پر باقی جمہورعلماء کے ہاں یہ حکم استحبابی ہے۔مرقات نے اس جگہ فرمایا کہ سلطان اسلام پر واجب ہے کہ ایسے علماء،مفتیوں،مدرسوں کی تنخواہیں مقرر کرے جنہوں نے اپنے کو دینی خدمات کے لیے وقف کردیا ہو۔
|
1855 -[19] وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ يَوْمَ عَرَفَةَ رَجُلًا يَسْأَلُ النَّاسَ فَقَالَ: أَفِي هَذَا الْيَوْمِ: وَفِي هَذَا الْمَكَانِ تسْأَل من يغر الله؟ فخفقه بِالدرةِ. رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت علی سے کہ آپ نے عرفہ کے دن ایک شخص کو سنا کہ لوگوں سے مانگتا ہے تو فرمایا کہ کیا اس دن میں اور اس جگہ غیر خدا سے مانگتا ہے آپ نے اسے کوڑے لگائے ۱؎ (رزین) |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ بھیک مانگنا ہمیشہ اور ہر جگہ ہی برا ہے لیکن مبارک تاریخوں اورمبارک مقامات پر بندوں سے بھیک مانگنا بہت زیادہ برا۔مرقات نے فرمایا کہ اسی طرح مسجدوں میں اور جمعہ کے دن بھیک مانگنا بہت برا ہےکہ یہ جگہ عبادات کے لیے ہیں بھیک مانگنے کے لیے نہیں۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اﷲ کی جگہ میں غیراﷲ سے مانگنا رحمت کے دروازے بندکردیتا ہے۔
|
1856 -[20] وَعَن عمر رَضِي الله عَنهُ قَالَ: تَعْلَمُنَّ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ الطَّمَعَ فَقْرٌ وَأَنَّ الْإِيَاسَ غِنًى وَأَنَّ الْمَرْءَ إِذَا يَئِسَ عَن شَيْء اسْتغنى عَنهُ. رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت عمر سے کہ آپ نے فرمایا اے لوگو یقین رکھو کہ طمع فقیری ہے اور نا امیدی غنا ہے اور انسان جب کسی چیز سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس سے لاپرواہ ہو جاتاہے ۱؎ (رزین) |
۱؎ اسی لئے کہاجاتا ہے کہ مایوسی بھی ایک قسم کی راحت ہے۔کسی نے حضرت ابو محسن شاذلی سے کیمیا پوچھی آپ نے فرمایا مخلوق سے امید توڑ دو اور تقدیر پر شاکر رہو،سب سے بڑی کیمیا یہ ہے۔شعر
آس بگزار بادشاہی کن گردن بے طمع بلند بود
|
1857 -[21] وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَكْفُلُ لِي أَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا فَأَتَكَفَّلَ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟» فَقَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا فَكَانَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مجھے اس کی ضمانت دے کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے گا تو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۲؎ حضرت ثوبان نے کہا میں تو کسی سے کچھ نہ مانگتا تھا۳؎ (ابو داؤد،نسائی) |
۱؎ آپ ثوبان ابن وجد ہیں،آپ کی کنیت ابوعبداﷲ یا ابوعبدالرحمن ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں ،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مکہ معظمہ اور یمن کے درمیان مقام سرات میں خریدا،آپ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک سفروحضر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع