30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ صدقہ سے مراد مال ظاہری جانوروں و پیداوار کی زکوۃ ہے جو حکومت اسلامیہ وصول کرتی تھی یا مال باطنی یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوۃ جو غنی صحابہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کرتے تھے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی خیرات کریں اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے خیرات قبول ہو،یعنی اے قبیصہ اتنا توقف کرو کہ زکوۃ وصول ہوجائے تو اس سے تمہارا زرِ ضمانت ادا کردیاجائیگا۔
۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ ایسا ضامن اگرچہ مالداربھی ہو تو صدقہ مانگ سکتا ہے کیونکہ یہ مانگنا اپنے لیے نہیں بلکہ اس مقروض فقیر کے لیے ہے جو فقیر ہے جس کا یہ ضامن ہے،رب تعالٰی نے زکوۃ کے مصارف میں غارمین(مقروضوں)کا بھی ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہی مقروض ہیں۔
۵؎ یعنی یہ شخص غنی تھا آفت ناگہانی نے مال برباد کرکے اسے فقیرکردیا اگرچہ تندرست ہے کمانے پر قادر ہے مگر کمانے تک کیا کھائے وہ اس وقت تک کے لیے مانگ سکتا ہے جب کچھ گزارہ کے لائق کمائے تو سوال سے باز آجائے۔
۶؎ سدادٌ یا سدُّ سین کے فتح سے،بمعنی رکاوٹ و آڑ یا سِدٌسین کے کسرہ سے ہے،بمعنی درستی و اصلاح یعنی اتنا مال حاصل کرے جس سے فقروفاقہ رک کر زندگی درست ہوجائے۔غرضکہ بھیک مانگنا مردار جانور کی طرح ہے جس کا جائز و حلال ہونا سخت ضرورت پر ہے۔
۷؎ یہ گواہی کی قید اس کے لیے ہے جس کے متعلق لوگوں کو شبہ ہوکہ یہ غنی ہے اور بلاضرورت مانگ رہا ہے۔قوم سے مراد اس کے حالات سے خبردار لوگ ہیں خواہ اس کی برادری کے ہوں یا آس پڑوس کے یعنی کم از کم تین واقف حال لوگ جنہیں غریبی امیری حاجت و غنا کی پہچان ہو وہ بتادیں کہ واقعی یہ فاقہ زدہ ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے اہل مدینہ قرض لینے اور سوال کرنے میں عار نہیں سمجھتے تھے ان کے وہ عادی تھے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عادتوں کو بدلنے کے لیے سوال پر تو یہ پابندیاں لگائیں۔مقروض کی نماز جنازہ خود نہ پڑھی دوسروں سے پڑھوا دی تاکہ عبرت پکڑیں اور قرض حتی الامکان نہ لیں۔
۸؎ خیال رہے کہ تین کا یہ حصر اضافی ہے حقیقی نہیں،ان تین کے علاوہ اور صورتیں بھی ہیں جن میں سوال درست ہوتا ہے جیسے وہ بے دست و پا جو کمانے پر قادر نہ ہو،وہ طالب علم جس نے اپنے کو طلب علم کے لیے وقف کردیا ہو اور لوگ توجہ نہ کرتے ہوں بغیر طلب نہ دیتے ہو۔مرقات نے فرمایا کہ خانقاہوں کے وہ مجاور جنہوں نے اپنے کو ریاضت و مجاہدات کے لیے حقیقی معنے میں وقف کردیا ہو ان کے لیے اُن ہی میں کا ایک سوال کرسکتا ہے،روٹیاں کپڑے جمع کرسکتا ہے،مگر خیال رہے کہ رب تعالٰی نیت سے خبردار ہے مانگنے کے لیے صوفی نہ بن جائے۔
|
1838 -[2] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جمرا. فليستقل أَو ليستكثر» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص مال بڑھانے کے لیے بھیک مانگے تو وہ انگارہ مانگتا ہے اب چاہے کم کرے یا زیادہ ۱؎(مسلم) |
۱؎ یعنی بلاسخت ضرورت بھیک مانگے بقدر حاجت مال رکھتا ہو زیادتی کے لیے مانگتا پھرے وہ گویا دوزخ کے انگارے جمع کررہا ہے، چونکہ یہ مال دوزخ میں جانے کا سبب ہے اسی لیے اسے انگارہ فرمایا۔اس حدیث سے آج کل کے عام پیشہ وربھکاریوں کو عبرت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع