30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذہب قوی ہےکیونکہ رب تعالٰی نے زکوۃ کے جو آٹھ مصرف بیان فرمائے"اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ"الایہ۔ان میں مجبور بیمار یا تندرست کی قید نہ لگائی۔معلوم ہوا کہ ہر فقیر تندرست یا بیمار زکوۃ لے سکتا ہے۔
|
1831 -[11]وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة |
اور احمد و نسائی و ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے۔ |
|
1832 -[12] وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يُقَسِّمُ الصَّدَقَةَ فَسَأَلَاهُ مِنْهَا فَرَفَعَ فِينَا النَّظَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآنَا جَلْدَيْنِ فَقَالَ: «إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مكتسب» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عبید اﷲ ابن عدی ابن خیار سے فرماتے ہیں کہ مجھے دو شخصوں نے خبر دی کہ وہ دونوں نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ حجۃ الوداع میں تھے صدقہ تقسیم فرمارہے تھے ۱؎ انہوں نے بھی حضور سے صدقہ مانگا تو حضور نے ہم پر نظر اٹھائی پھر جھکائی ہم کو تندرست و توانا دیکھا تو فرمایا کہ اگر تم چاہو تو تم کو دے دوں مگر اس میں نہ تو غنی کا حصہ ہے نہ کمائی کے لائق تندرست کا ۲؎(ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ صدقہ فرض یعنی زکوۃ ہوگا اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حجاج نے اپنی زکوۃ تقسیم کے لیے پیش کی ہوگی جیساکہ صحابہ کا دستور تھا،آج بھی مسلمان اپنے صدقات حرمین شریفین جانے والوں کو دے دیتے ہیں کہ وہاں تقسیم کردینا اسی عمل کا ماخذ یہ حدیث ہے،اہلِ حرمین جیران رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور وہاں صدقہ کا ثواب ایک کا ایک لاکھ تک ہے اس لیے یہ عمل کرتے ہیں،یہ اس حدیث کے خلاف نہیں کہ قوم کا صدقہ یا کسی شہر کا صدقہ اسی قوم و شہر میں خرچ کیا جائے کہ وہاں مقصد یہ ہے کہ سب صدقہ باہر یا دوسری قوم میں نہ بھیج دو اور اس شہر یا قوم کو بالکل محروم نہ کردو۔
۲؎ اس میں دونوں کو تقویٰ و طہارت کی تعلیم ہے یعنی چونکہ تم دونوں اگرچہ فقیر ہو مگر تندرست اور کمانے کے لائق ہو اس لیے اس سے لینا تمہارے لائق نہیں اگر ان کو یہ صدقہ لینا حرام ہوتا جیسا کہ حضرت امام شافعی فرماتے ہیں تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ فرماتے کہ اگر تم چاہو تو تم کو دے دوں،اس اختیار دینے سے معلوم ہورہا ہے کہ دینا جائز تو ہے مگر بہتر نہیں۔
|
1833 -[13] وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتَصَدَّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَى الْمِسْكِين للغني".رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد 1834 -[14] وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: «أوابن السَّبِيل» |
روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے مرسلًا ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ پانچ کے سواء کسی غنی کو صدقہ حلال نہیں اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والا ۲؎ اور صدقہ پر عامل۳؎ اور مقروض۴؎ یا اسے جو اپنے مال سے صدقہ خریدے یا اسے جس کا کوئی پڑوسی مسکین تھا تو مسکین پر صدقہ کیا گیا پھر مسکین نے اس غنی کو ہدیہ دیا۵؎(مالک،ابوداؤد) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں جوحضرت ابوسعید سے ہے یہ ہے کہ یا مسافر۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع