30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہاتھ فروخت کردے پھر میں تم کو آزاد کردوں گی ان کے مالک نے کہا کہ ہاں ہم فروخت تو کردیں گے مگر اس شرط سے کہ تمہاری ولاء یعنی آزاد کرنے کا حق ہم کو رہے یہ مسئلہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ولاء آزاد کرنے والے کو ہے نہ کہ فروخت کرنے والے کو،یہ دوسرا مسئلہ حضرت بریرہ کے ذریعہ معلوم ہوا ولاء کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اگر آزاد کردہ غلام لاوارث فوت ہوجائے تو میراث مولے کو ملتی ہے اسی طرح اگر مولی لاوارث فوت ہو تو یہ غلام میراث لیتا ہے۔
۴؎ یعنی بریرہ سے کہو کہ اپنے اس گوشت میں سے جو انہیں صدقہ ملا ہے ہم کو بھی دیں کیونکہ صدقہ ان پر ختم ہوچکا اب ہم کو بریرہ کی طرف سے ہدیہ ہوکر ملے گا جو ہمارے لیے مباح ہوگا۔اس سے تین مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بنی ہاشم کا آزادکردہ غلام زکوۃ نہیں لے سکتا مگر دوسروں کا غلام زکوۃ لے سکتا ہے،چونکہ حضرت عائشہ قرشیہ تو تھیں مگر ہاشمیہ نہ تھیں اس لیے بریرہ کو صدقہ لینا درست ہوا۔دوسرے یہ کہ اپنی بیوی یا بیوی کی لونڈی یا اولاد سے کچھ مانگنا جس میں ذلت نہ ہو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی جائز ہے چہ جائیکہ اور کوئی،جس سوال میں ممانعت ہے وہ ذلت والا سوال ہے،دیکھو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریرہ سے گوشت طلب فرمایا۔تیسرے یہ کہ ملکیت بدل جانے سے حکم بدل جاتا ہے لہذا اگر فقیر کو زکوۃ دی گئی اس نے اس زکوۃ سے کسی غنی یا سید کی دعوت کردی یا وہ زکوۃ کی رقم کسی مسجد سرائے یا کنوئیں پر خیرات کرکے لگادی تو جائز ہے کہ زکوۃ تو فقیر پرختم ہوگئی اب یہ فقیر کی طرف سے ہدیہ ہے،دیکھو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ پر صدقہ کیا ہوا گوشت کھالیا کہ اب یہ ہدیہ و نذرانہ بن گیا تھا،اس سے بہت سے فقہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔حضرت ابن عمر کو جو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا صدقہ دیا ہوا گھوڑا فقیر سے خریدنے کو منع فرمادیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آپ کو اس لیے رعایت دینا چاہتا تھا کہ آپ نے اسے صدقہ دیا تھا یہ رعایت کرانا ممنوع تھا لہذا احادیث میں تعارض نہیں ۔
|
1826 -[6] وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ الْهَدِيَّة ويثيب عَلَيْهَا. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اس کا بدل بھی عطا فرماتے تھے ۱؎(بخاری) |
۱؎ بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ دینے والے کو اپنی شان کے لائق بھاری عطیہ دیتے تھے،اب بھی جو اُمتی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایصال ثواب کرتے ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو دین و دنیا میں کہیں بہتر عوض فرماتے ہیں اور فرمائینگے جس کا تجربہ بار ہا ہوا اور ہورہا ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ایصالِ ثواب کرتے ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عطیہ تا قیامت جاری ہے۔
|
1827 -[7] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ وَلَوْ أُهْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاع لقبلت» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر مجھے پائے(یعنی گائے بکری کے کُھر وغیرہ)کی طرف دعوت دی جائے تو قبول کرلوں گا اور اگر مجھے دستی دی جائے تو منظور فرمالوں گا ۱؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی ہم کو معمولی آدمی کی دعوت اور معمولی ہدیہ قبول فرمانے میں عار نہیں ضرور قبول فرمائیں گے،اس میں مالداروں بلکہ بادشاہوں کو تعلیم ہے کہ غریبوں اور اپنے نوکروں کے حقیر ہدیوں کو نہ ٹھکراؤ ان کے اخلاص کی قدر کرو اور ہم غریبوں کی ہمت افزائی ہے کہ جس قدر ہوسکے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع