30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ غنی صحابہ اپنے واجب و نفلی صدقہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے تھے تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے غرباء میں تقسیم فرمادیں کہ آپ کے ہاتھ کی برکت سے رب تعالٰی قبول فرمائے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب صفہ وغیرہ فقراءوصحابہ پرتقسیم فرمادیتے تھے اور بعض لوگ خود حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدیہ و نذرانہ لاتے تھے،چونکہ دو قسم کے مال حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اس لیے اگر لانے والا صاف صاف نہ کہتا تو سرکار خود پوچھ لیتے تھے ہدیہ سے خود بھی کھالیتے تھے مگر صدقہ خود استعمال نہ فرماتے تھے ۔یہاں صحابہ سے مراد فقراء صحابہ ہیں جو صدقہ واجبہ لے سکتے ہیں حضرت عثمان غنی وغیرہم غنی صحابہ مراد نہیں۔صدقہ و ہدیہ کا فرق اس باب کے شروع میں عرض کیا گیا ہے۔
۲؎ یعنی ہدیہ و نذرانہ کا کھانا خود بھی کھاتے تھے اور موجود صحابہ کو بھی اپنے ہمراہ کھلاتے تھے۔خیال رہے کہ غنی اور سید کو صدقہ نفل لینا جائز ہے وہ صدقہ ان کے لیے ہدیہ بن جاتا ہے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نفل بھی نہ لیتے تھے کیونکہ اس میں صدقہ دینے والا لینے والے پر رحم و کرم کرتا ہے جس کا ثواب اﷲ سے چاہتا ہے،سب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کے خواستگار ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم پر کون انسان رحم کرتا ہے،ہاں صدقہ جاریہ جیسے کنوئیں کا پانی،مسجد و قبرستان کی زمین اس کا حکم دوسراہے کہ یہ ہر غنی و فقیر بلکہ خود صدقہ کرنے والے واقف کو بھی اس کا استعمال جائز ہے یہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی مباح تھا۔(از مرقات وغیرہ)
|
1825 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ سُنَنٍ: إِحْدَى السُّنَنِ أَنَّهَا عُتِقَتْ فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ» . وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَأُدْمٌ مِنْ أُدْمِ الْبَيْتِ فَقَالَ: «أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ؟» قَالُوا: بَلَى وَلَكِنَّ ذَلِكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ وَأَنْتَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ قَالَ: «هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلنَا هَدِيَّة» |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ حضرت بریرہ میں تین شرعی حکم ہوئے ۱؎ ایک حکم یہ کہ وہ آزاد کی گئیں تو انہیں اپنے خاوند کے متعلق اختیار دیا گیا۲؎ اور فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ولا آزاد کرنے والے کے لیے ہے۳؎ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ ہانڈی گوشت سے ابل رہی تھی آپ کی خدمت میں روٹی اور گھر کا کوئی سالن پیش کیا گیا تو فرمایا کہ کیا مجھے گوشت کی ہانڈی نظر نہیں آرہی عرض کیا ہاں لیکن یہ وہ گوشت ہےجو بریرہ پر صدقہ کیا گیا اور حضور آپ صدقہ تو کھاتے نہیں تو فرمایا وہ ان پر صدقہ ہے ہمارے لیے ہدیہ ہے ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ بریرہ رضی اللہ عنھا بروزن کریمہ صحابیہ ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ کی مولاۃ یعنی آزادکردہ لونڈی ہیں،آپ نے حضرت ابن عباس،عروہ ابن زبیر سے احادیث روایت کیں یعنی حضرت بریرہ کے ذریعہ ہم کو تین شرعی مسائل معلوم ہوئے۔
۲؎ حضرت بریرہ کے خاوند کا نام مغیث تھا جو پہلے غلام تھا حضرت بریرہ کے آزاد ہونے کے وقت آزاد ہوچکے تھے،جب آپ آزاد ہوئیں تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو خیار عتق دیا کہ چاہیں نکاح باقی رکھیں یا فسخ کرادیں۔معلوم ہوا کہ لونڈی کو آزادی پر خیار عتق ملتا ہے خاوند غلام ہو یا آزاد۔اس کی پوری بحث ان شاءاﷲ کتاب النکاح اور کتاب العتق میں آئے گی۔
۳؎ حضرت بریرہ ایک یہودی کی لونڈی تھیں جس نے آپ کو مکاتب کردیا تھا کہ اتنا مال دو تو تم آزاد ہو،آپ مال دینے سے عاجز ہوئیں تو حضرت عائشہ صدیقہ سے عرض کیا آپ نے فرمایا تمہارا مال میں دے دیتی ہوں اپنے مالک سے کہو کہ تمہیں میرے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع