دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

1822 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كِخْ كِخْ» لِيَطْرَحَهَا ثُمَّ قَالَ: «أما شَعرت أَنا لَا نَأْكُل الصَّدَقَة؟»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت حسن ابن علی نے صدقہ کے چھوہاروں میں سے ایک چھوہارا لےکر اپنے منہ میں ڈال لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اخ  اخ تاکہ وہ اسے تھوک دیں پھر فرمایا کہ کیا تمہیں خبر نہیں کہ ہم صدقے نہیں کھایا کرتے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎  اس حدیث نے فیصلہ فرمادیا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کو زکوۃ لینا حرام ہے۔اَنَا جمع فرماکر تا قیامت اپنی اولاد کو شامل فرمالیا یہ ہی حق ہے اسی پر فتویٰ ہے ۔بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ حکم اس زمانہ میں تھا اب سید زکوۃ لے سکتے ہیں یا سید کی زکوۃ سید لے سکتے ہیں یہ تمام مرجوع قول ہیں،فتویٰ اس پر نہیں۔خیال رہے کہ بنی ہاشم سے مراد آل عباس، آل جعفر، آل عقیل، آل حارث ابن مطلب اور آل رسول ہیں،ابولہب کی مسلمان اولاد اگرچہ بنی ہاشم تو ہیں مگر یہ زکوۃ لے سکتے تھے اور لے سکتے ہیں کیونکہ زکوۃ کی حرمت کرامت و عزت کے لیے ہے،ابو لہب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذاء کی کوشش میں رہا اسی لیے وہ اور اس کی اولاد اس عظمت کی مستحق نہ ہوئی۔(ازلمعات)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی ناسمجھ اولاد کو بھی ناجائز کام نہ کرنے دے،وہ دیکھو حضرت حسن اس وقت بہت ہی کمسن اور ناسمجھ تھے جیساکہ کخ کخ فرمانے سے معلوم ہورہا ہے مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی زکوۃ کا چھوہارا نہ کھانے دیا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ ناسمجھ لڑکوں کو سونے چاندی کا زیور پہنانا حرام ہے۔اس مسئلہ کی ماخذ یہ حدیث بھی ہوسکتی ہے یہ قاعدہ بہت مفید ہے۔(مرقات)

1823 -[3]

وَعَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِن هَذِهِ الصَّدَقَاتِ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبدالمطلب ابن ربیعہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ صدقات لوگوں کے میل ہیں ۱؎ یہ نہ حضور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور نہ آپ کی آل کو حلال ۲؎(مسلم)

۱؎ اس طرح کہ زکوۃ و فطرہ نکل جانے سے لوگوں کے مال ا ور دل پاک و صاف ہوتے ہیں جیسے میل نکل جانے سے جسم یا کپڑا، رب تعالٰی فرماتاہے:"خُذْ مِنْ اَمْوٰلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا" لہذا یہ مسلمانوں کا دھوون ہے۔

۲؎  یہ حدیث ایسی واضح اور صاف ہے جس میں کوئی تاویل نہیں ہوسکتی یعنی مجھے اور میری اولاد کو زکوۃ لینا اس لیے حرام ہے کہ یہ مال کا میل ہے لوگ ہمارے میل سے ستھرے ہوں ہم کسی کا میل کیوں لیں،اب بعض کا یہ کہنا کہ چونکہ سادات کو خمس نہیں ملتا اس لیے اب وہ زکوۃ لے سکتے ہیں غلط ہے کہ نص کے مقابل چونکہ اور کیونکہ نہیں سنا جاتا۔

1824 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ سَأَلَ عَنْهُ: «أَهَدْيَةٌ أَمْ صَدَقَةٌ؟» فَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ: قَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا» وَلَمْ يَأْكُلْ وَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ ضَرَبَ بِيَدِهِ فَأَكَلَ مَعَهم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی کھانا لایا جاتا تو اس کے متعلق پوچھتے کہ آیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو صحابہ سے فرماتے کھالو ۱؎ اور خود نہ کھاتے اور اگر عرض کیا جاتا کہ ہدیہ ہے تو ہاتھ شریف بڑھاتے اور ان کے ساتھ کھاتے ۲؎ (مسلم،بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن