30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ کہ جب یہ تجارت کے لیے نہ ہوں خدمت کے لیے ہوں تو ان میں زکوۃ نہیں،ہاں اس غلام کا فطرہ آقا پر واجب ہوگا۔
|
1814 -[21] وَعَنْ طَاوُسٍ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَتَى بِوَقَصِ الْبَقَرِ فَقَالَ: لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ. رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَقَالَ: الْوَقَصُ مَا لَمْ يَبْلُغِ الْفَرِيضَةَ |
روایت ہے حضرت طاؤس سے کہ حضرت معاذ ابن جبل کے پاس نصاب سے کم گائیں لائیں گئیں تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نہیں دیا ۱؎ (دارقطنی،شافعی) اور امام شافعی نے فرمایا کہ وقص وہ عدد ہے کہ نصاب کو نہ پہنچے ۲؎ |
۱؎ کیونکہ وجوب زکوۃ کے لیے مال کا بقدر نصاب ہونا شرط ہے اونٹ کا نصاب پانچ ہے،گائے کا تیس،بکریوں کا چالیس،اس کا پہلے ذکر ہوچکا۔
۲؎ اول ہی سے نصاب کو نہ پہنچے وہ بھی وقص ہے اور دو نصابوں کے درمیان کی کسر بھی وقص ہے،یہاں پہلی صورت مراد ہے کیونکہ انہوں نے اس کی بالکل زکوۃ نہ لی۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع