30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1807 -[14] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فِي الْعَمَل: «فِي كُلِّ عَشْرَةِ أَزُقٍّ زِقٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَلَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَاب كثير شَيْء |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کے بارے میں کہ ہر دس مشک میں ایک مشک ہے ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ اس کی اسناد میں کلام ہے اور اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ زیادہ منقول نہیں۲؎ |
۱؎ شہد کی زکوۃ کا مسئلہ بڑے معرکہ کا ہے،تین اماموں کے ہاں اس میں زکوۃ نہیں،امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے ہاں اس میں زکوۃ ہے،پھر اس کے نصاب کے بارے میں خود امام صاحب سے کئی روایتیں ہیں:ایک یہ کہ اگر شہد عشری زمین سے حاصل ہوا تو اس میں مطلقًا زکوۃ ہے تھوڑا ہو یا زیادہ کیونکہ سرکار فرماتے ہیں"مَا اَخْرَجَتْہُ الْاَرْضُ فَفِیْہُ الْعُشْرُ"اور ایک روایت میں یہ ہے کہ شہد کی قیمت پر زکوۃ ہے،ایک روایت یہ ہے کہ اگر دس مشکیزے ہوں تو ایک مشکیزہ اس کی زکوۃ،یہ حدیث اس تیسرے قول کی دلیل ہے امام شافعی کا بھی پہلا قول یہی تھا۔
۲؎ یعنی محدثین کے نزدیک یہ صحیح نہیں۔خیال رہے کہ محدثین کی یہ جرح امام اعظم کو مضر نہیں کیونکہ یہ حدیث امام صاحب کو صحیح ملی تھی اس لیے کہ آپ کا زمانہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت قریب ہے،ان محدثین کو ضعیف ہوکر ملی،بعد کا ضعف امام صاحب کو مضر نہ ہوگا،نیز یہ حدیث بہت روایتوں سے مروی ہے۔چنانچہ ابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد سے عشر وصول فرمایا ہے،بعض احادیث میں یوں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شہد کا عشر لیا جاتا تھا،ہدایہ نے حدیث یوں نقل کی کہ بنی شبابہ حضور انور صلے اﷲ علیہ وسلم کو شہد کا عشر دیتے تھے،تعدد اسناد کی وجہ سے متن حدیث قوی ہوگیا۔
|
1808 -[15] وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت زینب زوجہ عبداﷲ(ابن مسعود) سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا فرمایا کہ اے بیبیو خیرات دو اگرچہ اپنے زیور ہی سے ہو کیونکہ قیامت میں تم زیادہ دوزخی ہوگی ۱؎(ترمذی)۲؎ |
۱؎ یعنی پہننے کے سونے چاندی کے زیور میں بھی زکوۃ واجب ہے،یہاں صدقہ سے مراد زکوۃ ہے جیساکہ اگلی حدیث میں صاف آرہا ہے۔خیال رہے کہ پہننے کے ان زیوروں پر امام اعظم کے ہاں زکوۃ واجب ہے،امام شافعی کے قول جدید میں اور امام احمد کے ہاں اس میں زکوۃ نہیں،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے اس کا کچھ ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
۲؎ مرقات نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہے اور اس کے راوی سارے قوی،نیز اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہے"وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ"الایہ۔رب تعالٰی نے سونے چاندی میں تجارت کی قید نہ لگائی۔معلوم ہوا کہ پہننے کا زیوربھی اسی حکم میں داخل ہے لہذا سونے چاندی کے استعمالی زیور پر زکوۃ فرض ہے جب کہ ان کا وزن نصاب کو پہنچ جائے۔
|
1809 -[16] وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ امْرَأَتَيْنِ أَتَتَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي أَيْدِيهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُمَا: «تُؤَدِّيَانِ زَكَاتَهُ؟» قَالَتَا: لَا. فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِسِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟» قَالَتَا: لَا. قَالَ: «فَأَدِّيَا زَكَاتَهُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث قد رَوَاهُ الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَ هَذَا وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْء |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ دو عورتیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن (کڑے)تھے ان سے حضور انور نے فرمایا کہ تم ان کی زکوۃ دیتی ہو ۱؎ وہ بولیں نہیں تب ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم پسند کرتی ہو کہ اﷲ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ۲؎ وہ بولیں نہیں فرمایا تو ان کی زکوۃ دیا کرو(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث مثنی ابن صباح نے روایت کی عمرو ابن شعیب سے اس کی مثل اور مثنی ابن صباح اور ابن لہیعہ حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں اور اس باب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع