30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
1805 -[12] وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت سہل ابن ابی حثمہ سے انہوں نے خبر دی کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے کہ جب تم اندازہ لگاؤ تو تہائی چھوڑ دو اگر تہائی نہ چھوڑو تو چوتھائی تو ضرور چھوڑ دو ا؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ یہ حکام کو حکم ہے یعنی اے حاکمو!جب تم باغوں یا کھیتوں میں زکوۃ لینے جاؤ تو خودبھی اور دوسرے واقف کاروں کی مدد سے بھی اندازہ لگاؤ کہ اس میں کل پھل یا دانہ کتنا ہے،اس کی زکوۃ کا حساب لگاؤ اور تہائی یا چوتھائی زکوۃ چھوڑ دو تاکہ وہ مالک خود اپنے ہاتھ سے اپنے غریب قرابت داروں وغیرہ کو دے اور دو تہائی یا تین چوتھائی خود لے آؤ۔خیال رہے کہ امام شافعی و ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہما کے نزدیک یہ حکم خراج میں ہے زکوۃ پوری عامل وصول کرے گا،ان کے ہاں یہ حکم خیبر کے حکام کو تھا جو خیبر کے یہودیوں سے پیداوار کا نصف وصول کرنے جاتے تھے کیونکہ ان لوگوں سے اس پر صلح ہوئی تھی کہ پیداوار کا آدھا تمہارا ہوگا اور آدھا مسلمانوں کا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازروئے کرم حکم دیا کہ اپنے اندازے سے کچھ کم کرکے اس کا آدھا لو تاکہ ہماری طرف ان کا حق نہ آجائے ہمارا ان کی طرف رہ جائے تو حرج نہیں۔
|
1806 -[13] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يبْعَث عبد الله ابْن رَوَاحَةَ إِلَى يَهُودٍ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداﷲ ابن رواحہ کو ۱؎ یہود(خیبر)کی طرف بھیجتے تھے تو وہ کھجوروں کا اندازہ لگاتے تھے پکنے کے وقت کھائے جانے سے پہلے ۲؎ (ابوداؤد)۳؎ |
۱؎ آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ مشہور صحابی ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے شاعر ہیں،غزوہ موتی میں شہید ہوئے، آپ کے ذمہ وہ خدمت تھی جو آگے آرہی ہے۔
۲؎ گزشتہ حدیث میں عرض کیا گیا کہ یہودخیبر سے اس بات پر صلح ہوئی تھی کہ کھجوروں کے باغات مسلمانوں کے ہوں گے اور محنت ان یہود کی،پیداوار آدھی آدھی،حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھل پکنے کے وقت حضرت عبداﷲ ابن رواحہ کو اندازہ لگانے کے لیے خیبر بھیجتے تھے کیونکہ وہ اندازہ لگانے میں ماہر تھے۔چنانچہ آپ ان یہود سے فرمادیا کرتے تھے کہ اس باغ میں اتنے پھل ہیں تم یا اس کے آدھے پھل ہم سے لے لو اور باغ ہمیں چھوڑ دو یا آدھے پھل ہمیں دے دو اور باغ تمہارا اس فیصلہ پر یہود بہت خوش ہوتے اور کہتے تھے کہ یہ وہ عدل ہے جس سے آسمان و زمین قائم ہیں،مسلمانوں کے عدل و انصاف کے کفار بھی قائل تھے۔
۳؎ یہ حدیث ابوداؤد میں دو جگہ آئی ہے کتاب الزکوۃ میں اور کتاب البیوع میں،پہلی کی اسناد میں ایک مجہول شخص ہے، دوسری کی اسناد میں جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ہے،تمام راوی ثقہ ہیں لہذا یہ حدیث حسن لغیرہٖ ہے۔
|
1807 -[14] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فِي الْعَمَل: «فِي كُلِّ عَشْرَةِ أَزُقٍّ زِقٌّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ وَلَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَاب كثير شَيْء |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کے بارے میں کہ ہر دس مشک میں ایک مشک ہے ۱؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ اس کی اسناد میں کلام ہے اور اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ زیادہ منقول نہیں۲؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع