30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2378 -[15] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَمَرَّ بِقَوْمٍ فَقَالَ: «مَنِ الْقَوْمُ؟» قَالُوا: نَحْنُ الْمُسْلِمُونَ وَامْرَأَةٌ تَحْضِبُ بِقِدْرِهَا وَمَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَإِذَا ارْتَفَعَ وَهَجٌ تَنَحَّتْ بِهِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَلَيْسَ اللَّهُ أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ؟ قَالَ: «بَلَى» قَالَتْ: أَلَيْسَ اللَّهُ أَرْحَمَ بِعِبَادِهِ مِنَ الْأُم على وَلَدهَا؟ قَالَ: «بَلَى» قَالَتْ: إِنَّ الْأُمَّ لَا تُلْقِي وَلَدَهَا فِي النَّارِ فَأَكَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهَا فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا الْمَارِدَ الْمُتَمَرِّدَ الَّذِي يَتَمَرَّدُ عَلَى اللَّهِ وَأَبَى أَنْ يَقُولَ: لَا إِلَهَ إِلَّا الله ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں ہم بعض جہادوں میں نبی کریم کے ساتھ تھے حضور انور ایک قوم پر گزرے پوچھا تم کون قوم۱؎ ہو وہ بولے ہم لوگ مسلمان ہیں ایک عورت ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہی تھی ۲؎ جس کے ساتھ اس کا بچہ تھا جب آگ بھڑک کر اونچی ہوتی تو عورت بچہ کو دور ہٹا دیتی ۳؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی بولی کیا آپ رسول اﷲ ہیں۴؎ فرمایا ہاں بولی میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا اﷲ تمام رحم والوں سے بڑھ کر رحیم نہیں ۵؎ فرمایا ہاں بولی کیا اﷲ اپنے بندوں پر ماں کے اپنے بچہ سے زیادہ مہربان نہیں ۶؎ فرمایا ہاں ۷؎ تو بولی کہ ماں تو اپنے بچہ کو آگ میں نہیں ڈالتی ۸؎ اس پر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے سرجھکالیا بہت روئے پھر سر مبارک اس کی طرف اٹھا کر فرمایا اﷲ تعالٰی اپنے بندوں میں صرف سرکش متکبر ہی کو عذاب دے گا جو اﷲ تعالٰی پر سرکشی کرے اور لا الہ الا اﷲ کہنے سے انکاری ہو ۹؎(ابن ماجہ) |
۱؎ مسلمان ہو یا کفار غالبًا ان پر کوئی علامت موجود نہ تھی اسی لیے ان لوگوں نے جواب میں مسلمون فرمایا،یہ نہ کہا کہ ہم قریشی یا نضری ہیں۔خیال رہے کہ پوچھنا بے علمی کی دلیل نہیں،اس پوچھنے میں اور بہت سی مصلحتیں ہوتی ہیں،رب تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلا م سے پوچھا تھا کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے۔
۲؎ تحصب حصب سے بنا،حصب آگ روشن کرنے کو بھی کہتے ہیں اور ان تیلیوں و ایندھن کو بھی جس سے آگ سلگائی جائے، رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُ وۡنِ اللہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ"تم اور تمہارے جھوٹے معبود دوزخ کا ایندھن ہیں۔
۳؎ یعنی اس عورت کا ایک بچہ جو گھٹنوں چلتا تھا بار بار آگ کو کھلونا سمجھ کر دیگچی کے پاس آجاتا اور آگ کو پکڑنا چاہتا مگر عورت بار بار دور بٹھا آتی۔
۴؎ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اس سے پہلے کبھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت نہ کی تھی اور آج حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے انوار خوشبو وغیرہ دیکھ کر آپ کو پہچان گئی اسی لیے کسی دوسرے سے اس نے یہ سوال نہ کیا۔
۵؎ یعنی مخلوق میں بہت رحم کرنے والے ہیں ماں باپ،استاد،سلاطین،مگر رب تعالٰی تمام سے زیادہ مہربان ہے یہ عرض آئندہ سوال کی تمہید ہے۔
۶؎ چونکہ ماں سب سے زیادہ مہربان ہے،اسی لیے اس نے ماں کے متعلق خصوصیت سے سوال کیا ورنہ یہ سوال بھی پچھلے سوال میں آگیا تھا اور راحمین میں ماں بھی شامل تھی۔
۷؎ چنانچہ ملاحظہ فرمالیجئے کہ میں بچہ کی وجہ سے بار بار چولہا چھوڑتی ہوں اور بچے کو دور بٹھا آتی ہوں پھر رب تعالٰی اپنے بندوں کو دوزخ میں کیوں بھیجے گا سبحان اﷲ! کیسا پیار ا سوال ہے۔
۸؎ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ رونا اس عورت کی مامتا دیکھ کر اور پھر رب کی رحمت یاد فرما کر تھا،رونا کبھی خوف سے ہوتا ہے،کبھی شوق سے ،کبھی ذوق سے ،کبھی جوش سے ۔یہ رونا جوش سے تھا جو اﷲ کی رحمت یاد آکر پیدا ہوا اور اس یاد کی وجہ عورت کے حال کا ملاحظہ فرمانا تھا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ یہ رونا کیوں تھا۔
۹؎ خلاصہ یہ ہے کہ عذاب صرف کفار کو ہوگا وہ بھی ان کے اپنے قصور و سرکشی سے جیسے مہربان ماں نالائق و سرکش بیٹے کو عاق کرکے نکال دیتی ہے،رہے گنہگار مسلمان،انہیں دوزخ میں کچھ روز کے لیے ڈالنا تعذیب نہیں بلکہ تہذیب ہے یعنی ان کی صفائی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع