دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۳؎ جیسے ماں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ آگ میں جلے ایسے ہی رب تعالٰی نہیں چاہتا کہ میرا بندہ آگ میں جلے وہ تو ماں سے زیادہ مہربان ہے۔خیال رہے کہ یہاں چاہنا بمعنی راضی ہونا ہے نہ کہ بمعنی ارادہ کرنا رب تعالٰی نہ کفر سے راضی ہے نہ فسق سے،دنیا کا ہر کام رب تعالٰی کے ارادے سے ہے نہ کہ اس کی رضا سے،لوگ اپنی حرکتوں سے دوزخ میں جاتے ہیں رب تعالٰی ان کے اس جانے سے راضی نہیں لہذا حدیث صاف ہے اس پر مسئلۂ تقدیر کے اعتراضات نہیں پڑ سکتے۔

2371 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ» قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَتِهِ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا واغْدُوا وروحوا وشيءٌ من الدُّلْجَةِ والقَصدَ القصدَ تبلغوا»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دے سکے گا۱؎ لوگوں نے عرض کیا نہ آپ کو یارسول اﷲ ۲؎ فرمایا نہ مجھے مگر یہ کہ اﷲ مجھے مہربانی سے اپنی رحمت میں چھپالے ۳؎ لہذا ٹھیک رہو میانہ رو رہو اور صبح شام اور کچھ اندھیری رات میں نیکیاں کرلیا کرو میانہ رو رہو میانہ رو رہو پہنچ جاؤ ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی نیک اعمال دوزخ سے بچنے،جنت میں داخل ہونے کے اسباب تو ہیں مگر علت تامہ نہیں۔بہت سے لوگ بغیر نیک عمل جنتی ہیں جیسے مسلمانوں کے ناسمجھ بچے یا دیوانے یا وہ جو مسلمان ہوتے ہی فوت ہوجائیں اور بعض لوگ نیکیوں کے باوجود دوزخی ہیں جیسے نیکیاں کرنے والے کفار یا جن کی نیکیاں مردود ہوگئیں۔ جنت ملنے کی علت تامہ اﷲ تعالٰی کا فضل ہے،محض تخم درخت کی علت تامہ نہیں بہت بارتخم ضائع ہوجاتاہے۔ اس فرمان کا مقصد لوگوں کو نیکیوں سے روکنا نہیں ہے بلکہ نیکوں کو اپنے اعمال پر ناز کرنے سے بچانا ہے کہ اے پرہیزگارو اپنے اعمال پرغرور نہ کرو،رب تعالٰی کا فضل مانگو شیطان کے اعمال سے،اس کے انجام سے سبق لو۔

۲؎ یعنی آپ کی نیکیاں تو قبولیت کی انتہائی منزل پر ہیں کیا یہ بھی حصول جنت کے لیے کافی وافی نہیں،کیا آپ کو بھی اﷲ کی رحمت درکار ہے۔صحابہ سمجھے یہ تھے کہ ایسے موقعہ پر متکلم مستثنٰی ہوتا ہے شاید حضور یہ ہمارے لیے فرمارہے ہیں اس لیے یہ سوال کیا۔ اس سوال سے معلوم ہوتا کہ صحابہ عمومی احکام پرحضور کو داخل نہ مانتے تھے۔

۳؎  یتغمدنی غمد سے بنا،بمعنی غلاف تلوار جو ہرطرف سے تلوار کو چھپائے ہوتا ہے یعنی میں بھی محض عمل سے بلافضل الٰہی جنت کا حقدار نہیں،ہاں رب تعالٰی کی رحمت ہر طرف سے مجھے گھیرے تو جنت میر ی ہے۔ خیال رہے کہ تمام دنیا کے لئےحضورانور   صلی اللہ علیہ وسلم رحمت ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَ"اور رحمت الٰہی جنت ملنے کا ذریعہ ہے تو ہماری جنت کا وسلیہ عظمی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم پر خود رب تعالٰی کا فضل ربانی ہے: "وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیۡکَ عَظِیۡمًا"لہذا ہم اور رحمت سےجنتی ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم دوسری رحمت سے،سورج و چاند دونوں کو نور رب نے دیا مگر چاند کو سورج کے ذریعہ اور سورج کو بلاواسطہ اپنی طرف سے لہذا اس حدیث سے حضور کا ہماری مثل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔

۴؎ اس طرح کہ عقائد درست رکھو،عبادات میں درمیانی روش چلو کہ بقدر طاقت نوافل شروع کرو پھر ہمیشہ نبھادو اور صرف فرائض پر کفایت نہ کرو بلکہ نوافل بھی ادا کیا کرو خصوصًا آخری رات میں عبادت کیا کرو کہ یہ چیزیں رحمت الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن