دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۲؎ اگرچہ اس زمانہ میں دفن کا رواج تھا مگر اس ناسمجھ نے خیال کیا کہ دفن ہونے کی صورت میں میری لاش ایک ہی جگہ ہوگی جسے رب دوبارہ زندگی بخش دے گا اور اگر میری مٹی کے ذرے دریا اور خشکی میں بکھرگئے تو رب اسے جمع نہ کرے گا یا جمع نہ کر سکے گا۔اس کا یہ خیال قدرت الٰہی سے بے خبری کی بنا پر تھا اور یہ بے خبری نور نبوت نہ پہنچنے کی وجہ سے تھی لہذا یہ بندہ معذور تھا اور اسے اس بنا پر کافر نہیں کہہ سکتے کیونکہ ایسے زمانہ میں نجات کے لیے صرف عقیدۂ توحید کافی ہوتاہے۔

۳؎ یہ معنی بہت نفیس ہیں کہ قَدَرَ قَدْرٌ سے بنا نہ کہ قُدْرَۃٌ سے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىہُ فَقَدَرَ عَلَیۡہِ رِزْقَہ"اور یونس علیہ السلام کے بارے میں فرماتاہے:"فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقْدِرَ عَلَیۡہِ"اگر یہ قُدْرَۃٌ سے بنتا تو اس میں خدا کی قدرت کا انکار ہوتا جو کفر ہے،یہی معنے مرقات نے کئے یعنے اگر  رب نے مجھ  پر تنگی کی  اور میرا حساب  لیا تو مجھے عذاب دے گا۔خلاصہ یہ ہے  کہ تم میری میت کو خود عذاب دے دینا (جلا کر اڑا کر)تاکہ رب تعالٰی مجھ پر عذاب نہ کرے،اگر قُدْرَۃٌ سے ہو جیساکہ بعض شارحین نے فرمایا تو یہی کہا جائے گا کہ یہ بندہ صفات الٰہی سے خبردار نہ تھا۔

۴؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مردہ کو جلا ڈالنے اور اس کی مٹی کو اڑا دینے سے مردہ حساب و عذاب سے نہیں بچ سکتا،رب تعالٰی ایک آن میں اس کے تمام ذرے جمع فرماکر حساب بھی لے لیتا ہے اور عذاب و ثواب بھی دے دیتا ہے جیساکہ عذاب قبر کے باب میں عرض کرچکے ہیں۔دوسرے یہ کہ زمانہ فترت کے لوگ صرف عقیدۂ توحید پر بخشے جائیں گے،صفات الٰہی سے غفلت اور گناہوں پر ان کی پکڑ نہ ہوگی سوائے حقوق العباد اور ظلم کے کہ ظلم کی سزا تو جانوروں کو بھی ملے گی۔تیسرے یہ کہ خوف خدا رب تعالٰی کی بڑی ہی نعمت ہے جس سے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں،دیکھو یہ بندہ عمر بھر کا گنہگار تھا محض غلبۂ خوف الٰہی سے بخشا گیا۔چوتھے یہ کہ عذاب و ثواب کا حکم تو مرتے ہی ہوجاتا ہے اس کا ظہور قیامت میں ہوگا۔

2370 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ السَّبْيِ قَدْ تَحَلَّبَ ثديُها تسْعَى إِذا وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ أَخَذَتْهُ فَأَلْصَقَتْهُ بِبَطْنِهَا وَأَرْضَعَتْهُ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتُرَوْنَ هَذِهِ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟» فَقُلْنَا: لَا وَهِيَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ لَا تَطْرَحَهُ فَقَالَ: «لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِها»

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  پر کچھ قیدی آئے تو قیدیوں میں ایک عورت کی چھاتیاں دودھ سے چھلک رہی تھیں ۱؎  وہ دوڑ رہی تھی جب قیدیوں میں کوئی بچہ پاتی اسے پکڑتی  اپنے پیٹ سے چمٹا لیتی اور اسے دودھ پلادیتی ۲؎ تب ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم یہ خیال کرسکتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں پھینک دے ہم نے عرض کیا اگر وہ پھینکنے پر قادر ہو تو کبھی نہ پھینکے فرمایا اﷲ تعالٰی اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنی یہ اپنے بچے پر۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ کیونکہ اس کا بچہ اس سے جدا ہوچکا تھا اور یہ نئی والدہ تھی۔تحلب حلب سے بنا جس کے معنے ہیں دودھ دوہنا،یہاں دودھ کی وہ کثرت مراد ہے جسے پستان نہ سنبھال سکیں اور دودھ ٹپکنے لگے۔

۲؎ تاکہ دودھ کا جوش کچھ کم ہوجائے،نیز وہ اپنے بچہ کو یادکرکے دوسرے بچوں پرمہربانی کرتی تھی۔(مرقات)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن