30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چاہئیے کیونکہ اﷲ ستار و غفار ہے۔حضرت عمر فرماتے ہیں اگر قیامت میں رب اعلان فرمائے کہ صر ف ایک ہی بندہ جنتی ہے تو مجھے امید ہوکہ شائد میں ہی ہوں گا اور اگر اعلان ہوجائے کہ صرف ایک ہی بندہ دوزخی ہے تو مجھے خطرہ ہوگا کہ وہ میں ہی ہوں۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ بندہ پر زندگی میں خوف غالب چاہئیے اور مرتے وقت امید۔
|
2368 -[5] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جنت تم سے تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور آگ بھی ایسی ہی ہے ۱؎ (بخاری) |
۱؎ اس طرح کہ کبھی منہ سےایک بری بات نکل جاتی ہے تو ساری عمر کی نیکیاں برباد ہوجاتی ہیں اور بندہ دوزخی ہوجاتا ہے اور کبھی منہ سے ایک بات اچھی نکل جاتی ہے جو رب کو پسند ہو اس سے بندہ کے عمر بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور وہ جنتی ہوجاتا ہے۔غرضکہ ایک لفظ میں جنت و دوزخ ہے،چونکہ جنت ودوزخ اپنے عمل سے ملتی ہیں اور ان کے راستے عمل کے قدموں سے طے ہوتے ہیں اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس قرب کو جوتے کے تسمے سے تشبیہ دی یعنی ایک قدم میں جنت ہے اور ایک قدم میں دوزخ۔
|
2369 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: " قَالَ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ لِأَهْلِهِ وَفِي رِوَايَةٍ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ إِذَا مَاتَ فَحَرِّقُوهُ ثُمَّ اذْرُوا نِصْفَهُ فِي الْبَرِّ وَنِصْفَهُ فِي الْبَحْرِ فو الله لَئِنْ قَدَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَيُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا لَا يُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا مَا أَمَرَهُمْ فَأَمَرَ اللَّهُ الْبَحْرَ فَجَمَعَ مَا فِيهِ وَأَمَرَ الْبَرَّ فَجَمَعَ مَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ خَشْيَتِكَ يَا رَبِّ وَأَنْتَ أَعْلَمُ فَغَفَرَ لَهُ " |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص جس نے کبھی کوئی نیکی نہ کی تھی اس نے اپنے گھر والوں سے کہا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ایک شخص نے اپنی جان پر زیادتی کی تھی جب اسے موت آئی تو اس نے اپنی اولاد کو وصیت کی۱؎ کہ جب وہ مرجائے تو اسے جلادو پھر اس کو آدھا جنگل میں اور آدھا دریا میں اڑا دو ۲؎ رب کی قسم اگر اﷲ نے اس پرتنگی کی تو اسے وہ عذاب دے گا جو جہانوں میں کسی کو نہ دے۳؎ پھر جب وہ مرگیا جو اس نے کہا تھا وہ ان لوگوں نے کیا، اﷲ نے دریا کو حکم دیا تو اس نے اپنے اندر کا سب جمع کردیا اور جنگل کو حکم دیا تو اس نے اپنے اندر کا جمع کر دیا پھر اس سے فرمایا کہ تو نے یہ حرکت کیوں کی وہ بولا یا رب تیرے ڈر سے تجھے تو خود خبر ہے اسے رب نے بخش دیا ۴؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ غالب یہ ہے کہ یہ شخص کوئی اسرائیلی تھا کیونکہ بنی اسرائیل نے بار ہا خوف الٰہی میں بڑی بڑی مشقتیں جھیلی ہیں اور یہ واقعہ اس وقت کاہے جب انبیاءکرام کی تعلیم دنیا سے گم ہوچکی تھی لوگ رب تعالٰی کی صفات سے بے خبر ہوگئے تھے لہذا اگلے واقعہ پر کوئی اعتراض نہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع