30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2362 -[40] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يَعْدِلُ بِهِ شَيْئًا فِي الدُّنْيَا ثُمَّ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلَ جِبَالٍ ذُنُوبٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اﷲ تعالٰی سے اس طرح ملے ۱؎ کہ دنیا میں کسی چیز کو اس کے برابر نہ جانتا ہو۲؎ پھر اس پر گناہوں کے پہاڑ ہوں تو اﷲ اسے بخش دے گا ۳؎ (بیہقی کتاب البعث و النشور) |
۱؎ یعنی اس حال میں مرے۔یہاں اﷲ سے ملنے سے مراد دنیا سے جانا ہے نہ کہ قیامت میں اٹھنا کہ مرتے ہی سب ایمان لے آتے ہیں،پھر قیامت میں مشرک کون ہوگا،چونکہ بعدموت دنیا کے سارے تعلقات ختم ہوجاتے ہیں،بندہ کا تعلق صرف رب تعالٰی سے رہ جاتا ہے اسی لیے موت کو اﷲ سے ملنا فرمایا گیا۔
۲؎ اس طرح کہ کسی کو خدا کا شریک نہ مانتا ہو،چونکہ عرب میں عام طور پر کفار مشرکین ہی تھے اس لیے شرک کا ذکر فرمایا ورنہ موحد کافر کا بھی یہ ہی حال ہے۔خیال رہے کہ مشرک اپنے معبودوں کو خدا کے برابر ضرور مانتے ہیں کسی کو خدا کی اولاد،کسی کو خدا کا مددگار،کسی کو خدا کے مقابل اپنا کار ساز مانتے ہیں اسی لیے وہ قیامت میں اپنے شرکاء سے کہیں گے"اِذْ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ"۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"علم القرآن "میں ملاحظہ فرمائیے،رب تعالٰی فرماتاہے:"بِرَبِّہِمۡ یَعْدِلُوۡنَ"۔
۳؎ اگر چاہے تو بخش دے یا تو بالکل ہی بخش دے یا کچھ تنبیہ فرما کر یا کچھ سز ادے کر ،رب تعالٰی فرمایاہے:"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"لہذا یہ حدیث نہ تو قرآنی آیات کے مخالف ہے نہ عذاب کی حدیثوں کے اور نہ اس میں مسلمانوں کو گناہ پر دلیر کیا گیا ہے۔
|
2363 -[41] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّائِبَ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ تَفَرَّدَ بِهِ النَّهْرَانَيُّ وَهُوَ مَجْهُولٌ. وَفِي (شَرْحِ السُّنَّةِ)رَوَى عَنْهُ مَوْقُوفًا قَالَ: النَّدَمُ تَوْبَةٌ والتَّائبُ كمن لَا ذَنْبَ لَهُ |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس کا گناہ تھا ہی نہیں ۱؎ (ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)اور بیہقی نے فرمایا کہ اس حدیث میں نہرانی اکیلا ہے اور وہ مجہول الحال ہے ۲؎ اور شرح سنہ میں ابن مسعود سے موقوفًا روایت کی آپ نے فرمایا نادم ہونا توبہ ہے اور توبہ والا ایسا ہے کہ گویا گناہ کیا ہی نہیں ۳؎ |
۱؎ توبہ سے مراد سچی اور مقبول توبہ ہے جس میں تمام شرائط جواز و شرائط قبول جمع ہوں کہ حقوق العباد اور حقوق شریعت ادا کردیئے جائیں،پھر گزشتہ کوتاہی پر ندامت ہو اور آئندہ نہ کرنے کا عہد۔اس توبہ سے گناہ پر مطلقًا پکڑ نہ ہوگی بلکہ بعض صورتوں میں تو گناہ نیکیوں سے بدل جائیں گے۔حضرت رابعہ بصریہ سفیان ثوری اور فضیل ابن عیاض سے فرمایا کرتی تھیں کہ میرے گناہ تمہاری نیکیوں سے کہیں زیادہ ہیں،اگر میری توبہ سے یہ گناہ نیکیاں بن گئے تو پھر میری نیکیاں تمہاری نیکیوں سے بہت بڑھ جائیں گی۔ (مرقات)خیال رہے کہ یہاں "کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ"سے انبیاء،اولیاء،ملائکہ خارج نہیں ہیں کیونکہ گنہگار توبہ کرکے ان جیسا نہیں ہوجاتا اگر اسے عذاب نہ بھی ہو مگر خجالت و شرمندگی تو ہوگی وہ حضرات ان سے بھی پاک ہیں۔یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع