30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2360 -[38] وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا بِهَذِهِ الْآيَةِ (يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرفُوا على أنْفُسِهم لَا تَقْنَطوا)الْآيَةَ» فَقَالَ رَجُلٌ: فَمَنْ أَشْرَكَ؟ فَسَكَتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «أَلا وَمن أشرَكَ» ثَلَاث مرَّاتٍ |
روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ مجھے اس آیت کے عوض ساری دنیا مل جاتی ۱؎ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ناامید نہ ہوؤ ،الخ ۲؎ ایک شخص بولا تو جو شرک کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر فرمایا یقینًا جو شرک کرے تین بار فرمایا(یعنی اس کی توبہ بھی قبول ہوگی۳؎ |
۱؎ پھر میں اس دنیا سے لذات و خیرات سب کچھ حاصل کرتا۔
۲؎ اس آیت میں عبادی سے مراد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے غلام ہیں اور زیادتی سے مراد گناہ کرتے رہنا ہے،انہی سے مغفرت کا وعدہ ہے کہ شرک و کفر کی معافی نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ"۔
۳؎ یعنی شرک و کفر بھی بخش دیا جائے گا بشرطیکہ بندہ اس سے توبہ کرکے مسلمان ہوجائے،تب بھی بخشا جاسکتا ہے لہذا یہ حدیث مذکورہ آیت کے خلاف نہیں۔
حکایت:حضرت وحشی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ اسلام میں شرک،قتل،زنا بہت بڑے بڑے گناہ ہیں اور میں نے یہ تینوں کئے ہیں میری بخشش کیسے ہوگی،تب یہ آیت کریمہ آئی"اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صٰلِحًا"وحشی بولے کہ مغفرت کی یہ شرطیں بہت سخت ہیں تو یہ نیک اعمال وغیرہ مجھ سے کیسے ہوں گے تب یہ آیت سنائی گئی"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"وحشی بولے اب بھی میری تسلی نہیں ہوتی نہ معلوم میری بخشش ہوگی یا نہیں تب یہ آیت نازل ہوئی"قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا"الخ تب وحشی بولے بس بس مجھے کافی ہے کافی ہے،صحابہ نے عرض کیا یارسول اﷲ کیا یہ بشارتیں صرف وحشی کے لیے ہیں فرمایا نہیں بلکہ میری ساری امت کے لیے۔(تفسیرمعالم التنزیل و مرقات)غرضکہ یہ آیت بہت ہی امید افزاء ہے
|
2361 -[39] وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحِجَابُ؟ قَالَ: «أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ»رَوَى الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ أَحْمَدُ وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ الْأَخِيرَ فِي كِتَابِ الْبَعْثُ والنشور |
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی اپنے بندے کو بخشتا ہے جب تک کہ آڑ نہ واقع ہو ۱؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ آڑ کیا ہے فرمایا یہ کہ کوئی شخص شرک کرتے ہوئے مرجائے ۲؎ ان تینوں حدیثوں کو احمد نے روایت کیا اوربیہقی نے آخری حدیث کتاب البعث والنشور میں روایت کی۔ |
۱؎ یعنی وہ واقعہ ہوجائے جو بندہ اور رب تعالٰی کی رحمت کے درمیان آڑ ہے دوئی کی آڑ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثْنَیۡنِ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وّٰحِدٌ"۔
۲؎ شرک سے مراد کفر ہے کہ کفر پرموت واقع ہوجانا رحمتِ الٰہی سے بڑی مضبوط آڑ ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ کافر کی ہر توبہ موقوف رہتی ہے،اگر ایمان لاکر مرا تمام گزشتہ توبہ قبول ہوگئیں،اگر کفر پر ہی مرگیا تو ساری توبہ بیکار گئیں۔حق یہ ہے کہ کفار کی بعض دعائیں قبول ہوجاتی ہیں،شیطان نے درازیٔ عمر کی دعا مانگی جو کچھ ترمیم سے قبول ہوگئی۔
|
2362 -[40] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يَعْدِلُ بِهِ شَيْئًا فِي الدُّنْيَا ثُمَّ كَانَ عَلَيْهِ مِثْلَ جِبَالٍ ذُنُوبٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي كتاب الْبَعْث والنشور |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اﷲ تعالٰی سے اس طرح ملے ۱؎ کہ دنیا میں کسی چیز کو اس کے برابر نہ جانتا ہو۲؎ پھر اس پر گناہوں کے پہاڑ ہوں تو اﷲ اسے بخش دے گا ۳؎ (بیہقی کتاب البعث و النشور) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع