30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2344 -[22] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ: وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَارْتِفَاعِ مَكَانِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي " رَوَاهُ أَحْمَدُ |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان نے عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو اس وقت تک بہکاؤں گا جب تک ان کی جانیں ان کے جسموں میں رہیں ۱؎ رب عزّوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت و جلالت اور بلندیٔ درجات کی قسم میں انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں ۲؎(احمد) |
۱؎ شیطان سے مراد ابلیس ہے اور بہکانے سے مراد اچھے عقیدوں یا اچھے اعمال سے الگ کردینا ہے یعنی میں بندوں کے مرتے وقت تک کوشش کروں گا کہ وہ بدعقیدہ ہوجائیں،اگر یہ نہ کرسکا تو کم از کم ان سے گناہ ہی کرادوں گا،اگر یہ بھی نہ ہوسکا تو انہیں نیکی سے روک دوں گا،اگر یہ بھی نہ ہوسکا تو بڑی نیکی سے روک کر چھوٹی نیکی میں مشغول کردوں گا،ابلیس کی یہ کوشش بندے کے مرتے وقت تک رہتی ہے بعد موت یہ کوشش تو ختم ہوجاتی ہے،اب قبر کے سوالات کے جوابات میں بہکاتا ہے اسی لیے بعد دفن میت کو تلقین کرنے کا حکم ہےلہذا یہ حدیث نہ تو اس حدیث کے خلاف ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد دفن میت کے لیے شیطان سے حفاظت کی دعا فرمائی اور نہ اس آیت کے خلاف ہے کہ"اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ"۔بہر حال کوئی شخص کسی حال میں اپنے کو شیطان سے محفوظ نہ جانے اﷲ کی پناہ مانگے۔آدم علیہ الصلوۃ والسلام معصوم تھے اور جنت میں تھے جو جگہ محفوظ تھی مگر پھربھی شیطان نے وہاں اپنا داؤ چلایا تو ہم نہ معصوم ہیں نہ دنیا جگہ محفوظ پھر ہم کس چیز پر شیخی ماریں۔یا اﷲ تیری پناہ !
۲؎ یعنی اگر جان نکلتے نکلتے بندہ توبہ کرے تو معافی ہوجائے گی۔معلوم ہوا کہ غرغرہ کی توبۂ گناہ قبول ہے جیسا پہلے عرض کیا گیا۔
|
2345 -[23] وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا عَرْضُهُ مَسِيرَةُ سَبْعِينَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ لَا يُغْلَقُ مَا لم تطلع عَلَيْهِ الشَّمْسُ مِنْ قِبَلِهِ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:(يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قبل)رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت صفوان بن عسال سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی نے توبہ کے لیے مغرب میں ایک دروازہ بنایا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے ۲؎ وہ اس وقت تک بند نہ ہوگا جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۳؎ یہ ہی اﷲ عزوجل کا فرمان عالی شان ہے جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں آئیں گی تو کسی ایسے نفس کو ایمان مفید نہ ہوگا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو ۴؎(ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،کوفہ میں قیام رہا،دس غزوات میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،حضرت عبداﷲ ابن مسعود نے آپ سے احادیث روایت کیں۔
۲؎ یعنی آسمانوں میں بہت دروازے ہیں:بعض دروازے فرشتوں کے اترنے کے لیے،بعض رزق عباد نازل ہونے کے لیے،بعض اعمال عباد چڑھنے کے لیے،ایک دروازہ وہ ہے جس سے بندوں کی توبہ جاتی ہے اور بارگاہ الٰہی میں پیش ہوتی ہے یہ دروازہ مدینہ منورہ سے جانب مغرب آسمان میں واقع ہے اس کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے تو اس کی لمبائی اور اونچائی کتنی ہوگی یہ رب ہی جانے۔حدیث بالکل اپنے ظاہری معنے پر ہے کسی قسم کی تاویل یا توجیہ کی ضرورت نہیں،آسمان کے دروازے قرآن کریم سے ثابت ہیں"وَّ فُتِحَتِ السَّمَآءُ فَکَانَتْ اَبْوٰبًا"الخ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع