30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوتا ہے اور جسم دبلا و پیلا پڑ جاتا ہے،جسم کو صاف رکھنے،غسل کرانے،اچھی ہوا دینے سے دل کو شفا ہوتی ہے،یہ بھی خیال رہے کہ جیسے گناہ بہت آہستگی سے دل کو میلا کرتے ہیں ایسے ہی توبہ اور نیک اعمال بہت آہستگی سے میلے دل کو صاف کرتے ہیں مگر نبی کی عداوت یکدم شفاف دل کو میلا نہیں بلکہ زنگ آلود کردیتی ہے جیسے شیطان کا حال ہوا کہ لاکھوں سال کی عبادت ایک سیکنڈ میں برباد ہوکر اس کا دل ناقابل علاج،زنگ آلود ہوگیا اور مقبول بندے کی نگاہ کرم ایک آن میں زنگ آلود دل کو صاف کرکے اس پر پالش کردیتی ہے،موسیٰ علیہ السلام کی نظر سے برسوں کے مجرم جادوگر مؤمن، صحابی،صابر اور شہید ہوگئے،حضور غوث پاک کی ایک نظر سے چور قطب ہوگئے اسی لیے صوفیاء فرماتے ہیں۔شعر
یک زمانہ صحبتے با اولیاء بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
یک زمانہ صحبتے یا انبیاء بہتر از ہزار سالہ طاعت بے ریا
یک زمانہ صحبتے یا مصطفی بہتر از لکھ سالہ طاعت بے ریا
۲؎ مسلسل گناہ بغیر توبہ کی وجہ سے دل میں زنگ بلکہ کٹھ لگ جاتی ہے جو پھر صرف نیکیوں سے صاف نہیں ہوتی بلکہ نگاہ کامل سے صاف ہوتی ہے اسی لیے رب تعالٰی نے عرب جیسے کٹھ لگے ہوئے ملک میں ایسے شاندار رسول کو بھیجا،اندھے شیشوں میں کوئی خاص چمک والا ہی چمکتا ہے،وہاں چمکنا ہر ایک کا کام نہیں۔ران رین سے بنا بمعنی کٹھ یا بہت موٹی تہہ والا پردہ۔
|
2343 -[21] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی بندہ کی توبہ قبو ل فرماتا ہے غرغرہ سے پہلے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ) |
۱؎ نزع کی حالت کو جب کہ موت کے فرشتے نظر آجائیں غرغرہ کہتے ہیں۔اس وقت کفر سے توبہ قبول نہیں کیونکہ ایمان کے لیے ایمان بالغیب ضروری ہے اب غیب مشاہدہ میں آگیا اسی لیے ڈوبتے وقت فرعون کی توبہ قبول نہ ہوئی مگر گناہوں سے توبہ اس وقت بھی قبول ہے اگر توبہ کا خیال آجائے اور الفاظ توبہ بن پڑیں۔اسی لیے مرقات نے یہاں فرمایا کہ عبدسے مراد بندہ کافر ہے کہ غرغرہ کے وقت اس کی توبہ قبول نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"حَتّٰۤی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الۡـٰٔنَ" الخ۔بعض علماء نے فرمایا کہ ملک الموت ہر مرنے والے کو نظر آتے ہیں مؤمن ہو یا کافر۔خیال رہے کہ قبض روح پاؤں کی طرف سے شروع ہوتا ہے تاکہ بندہ کی اس حالت میں دل و زبان چلتے رہیں،گنہگار توبہ کرلیں،کہا سنا معاف کرالیں،کوئی وصیت کرنی ہو تو کرلیں۔یہ بھی خیال رہے کہ غرغرہ کے وقت گناہوں سے توبہ کے معنے ہیں گزشتہ گناہوں پر شرمندہ ہوجانا،اب آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد بیکار ہے کہ اب تو دنیا سے جارہا ہے گناہ کا وقت ہی نہ پاسکے گا مگر یہ توبہ اس وقت کی قبول ہے کہ رب تعالٰی غفار ہے۔
|
2344 -[22] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَالَ: وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ مَا دَامَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي أَجْسَادِهِمْ فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي وَارْتِفَاعِ مَكَانِي لَا أَزَالُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي " رَوَاهُ أَحْمَدُ |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان نے عرض کیا یارب تیری عزت کی قسم میں تیرے بندوں کو اس وقت تک بہکاؤں گا جب تک ان کی جانیں ان کے جسموں میں رہیں ۱؎ رب عزّوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت و جلالت اور بلندیٔ درجات کی قسم میں انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے معافی مانگتے رہیں ۲؎(احمد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع