30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
2338 -[16] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: مَنْ عَلِمَ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى مَغْفِرَةِ الذُّنُوبِ غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِي مَا لم تشرك بِي شَيْئا ". رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرماتے ہیں فرمایا اللہ تعالٰی نے جو جانے کہ میں گناہ بخش دینے پر قادر ہوں تو میں اسے بخش دوں گا کچھ پرواہ نہ کروں گا جب تک کہ وہ میرا کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ۱؎(شرح سنہ) |
۱؎ سبحان اﷲ! بہت امید افزا حدیث ہے یعنی جو مؤمن رب تعالٰی کو عذاب و مغفرت پر قادر مانے،پھر اس سے گناہ سرزد ہوجائے رب تعالٰی اپنے فضل سے اسے بخش دے گا۔مالم یشرك پہلے جملہ کی تاکید ہے کیونکہ جو رب تعالٰی کو نبی کے بتانے سے ہر چیز پر قادر مانے وہ مؤمن ہی ہوگا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہ کبیرہ کی بخشش توبہ پر موقوف نہیں اسی طرح حقوق العباد کی معافی خود حق والے سے معاف کرانے پر موقو ف نہیں کہ رب تعالٰی نے اس کے بغیر بخش ہی نہ سکے قانون اور ہے قدرت کچھ اور،قانون کے ہم پابند ہیں رب تعالٰی پابند نہیں۔اس حدیث میں رب تعالٰی کی قدرت کا ذکر ہے اور حقوق العباد والی حدیث میں قانون کا ذکر لہذا احادیث آپس میں متعارض نہیں اور نہ اس میں بندوں کو گناہ پر دلیرکرنا ہے۔
|
2339 -[17] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» . رَوَاهُ أحمدُ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو استغفار کو اپنے پر لازم کرلے ۱؎ تو اﷲ اس کے لیے ہرتنگی سے چھٹکارا اور ہر غم سے نجات دے گا اور وہاں سے اسے روزی دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۲؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ اس طرح کہ روزانہ استغفار کے کلمے زبان سے ادا کیا کرے گناہ کرے یا نہ کرے۔بہتر یہ ہے کہ نماز فجر کے وقت سنت فجر کے بعد فرض سے پہلے ستر بار پڑھا کرے کہ یہ وقت استغفار کے لیے بہت ہی موزوں ہے، رب تعالٰی فرماتاہے:"وَبِالْاَسْحَارِہُمْ یَسْتَغْفِرُوۡنَ"۔
۲؎ یہ عمل بہت ہی مجرب ہے۔روزی سے مراد مال،اولاد،عزت سب ہی ہے۔استغفار کرنے والے کو رب تعالٰی یہ تمام نعمتیں غیبی خزانہ سے بخشتا ہے،قرآن کریم فرماتاہے:"فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوۡا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیۡکُمۡ مِّدْرَارًا"۔قرآن کریم میں استغفار پر پانچ نعمتوں کا ذکر فرمایا اور اس حدیث نے تین نعمتوں کا مگر ہماری اس شرح سے وہ پانچوں نعمتیں ان تین میں آگئیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَمَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ"۔یہ حدیث اس آیت کی شرح ہے۔
|
2340 -[18] وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابوبکر صدیق سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ معافی مانگ لینے والا گناہ پر اڑیل نہیں اگرچہ دن میں ستر بار گناہ کرے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع