دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۱؎ شاید یہاں توبہ سے مراد کفر سے توبہ ہے یعنی آفتاب کے پچھم سے نکلنے پر سارے کفار ایمان قبول کرلیں گے مگر اس وقت کا ایمان قبول نہ ہوگا کیونکہ ایمان بالغیب نہ رہا ،گناہوں سے توبہ اس وقت بھی قبول ہوگی  جیسے غرغرہ کی حالت میں کفر سے توبہ قبول نہیں گناہوں سے توبہ قبول ہے،بعض کے ہاں حدیث اپنے اطلاق پر ہے کہ اس وقت نہ کفر سے توبہ قبول ہے نہ گناہوں سے،وہ فرماتے ہیں کہ اس وقت کا ایمان قبول نہ ہونا تو قرآن کریم سے ثابت ہے اور توبہ قبول نہ ہونا حدیث سے ثابت،دونوں برحق ہیں۔واﷲ ورسولہ اعلم!(لمعات و مرقات)

2332 -[10]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ أَحَدِكُمْ كانَ رَاحِلَتُهُ بِأَرْضٍ فَلَاةٍ فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَأَيِسَ مِنْهَا فَأَتَى شَجَرَةً فَاضْطَجَعَ فِي ظِلِّهَا قَدْ أَيِسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ فَبَيْنَمَا هُوَ كذلكَ إِذ هُوَ بِهَا قَائِمَةً عِنْدَهُ فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ: اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ ". رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اﷲ تعالٰی اس کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ۱؎ جس کی سواری پٹپر زمین میں ہو وہ سواری بھاگ جائے اس پر اس کا کھانا پانی ہو یہ اس سواری سے مایوس ہوکرکسی درخت تک پہنچے اپنی سواری سے مایوس ہوکر درخت کے سایہ میں لیٹ رہے وہ اس حال میں ہو کہ ناگاہ اس کی سواری اس کے پاس آکھڑی ہو وہ اس کی مہار پکڑے ۲؎ پھر انتہائی خوشی میں یوں کہہ بیٹھے الٰہی تو میرا بندہ اور میں تیرا رب بہت خوشی سے بندہ خطا کر گیا ۳؎(مسلم)

۱؎ ایسے مقامات پر خوشی سے مراد رضاء ہوتی ہے کیونکہ اصطلاحی فرحت و خوشی سے رب تعالٰی پاک ہے۔خیال رہے کہ رضاء اور ہے امراور مگر ارادہ کچھ اور اﷲ تعالٰی ہر بندے کے ایمان و شکر سے راضی ہے۔فرماتاہے: "اِنۡ تَشْکُرُوۡا یَرْضَہُ لَکُمْ"اور ہرشخص کو اس نے ایمان کا حکم بھی دیا ہے کہ فرمایا:"اٰمِنُوۡابِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"لیکن ہرشخص کے ایمان کا ارادہ نہیں کیا ورنہ دنیا میں کوئی کافر نہ ہوتا،بعض کے کفر کا ارادہ کیا ہے اور بعض کے ایمان کا۔ان ارادوں میں صدہا حکمتیں ہیں جو علمِ کلام  میں  مذکور  ہیں  ،دیکھو ذبح  اسمعیل (علیہ الصلوۃ والسلام)کا حکم  تھا   ارادہ   نہ تھا۔یہاں اس کی رضاء کا ذکر ہے نہ کہ ارادے کا۔

۲؎ یعنی جیسے اس شخص کو یاس کے بعد آس سے انتہائی خوشی ہوتی ہے جو بیان میں نہیں آسکتی کیونکہ اس بندے کو یاس بھی(ناامیدی)جان سے ہوچکی تھی ایسے ہی رب تعالٰی کی یہ رضا ہم بیان نہیں کرسکتے،یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں پورے واقعہ کو پورے واقعہ سے تشبیہ دی جاتی ہے نہ کہ ہر حال کو ہر حال سے لہذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ رب تعالٰی مایوس بھی ہوا ہو اور بعد میں اسکی آس بندھی ہو۔مقصد یہ ہے کہ رب تعالٰی ہم پر خود ہم سے زیادہ مہربان ہے جتنی خوشی ہم کو اپنی جان بچنے سے ہوتی ہے اس سے زیادہ خوشی اﷲ تعالٰی کو بندے کے ایمان بچنے سے ہوتی ہے۔

۳؎ یہ کلام بھی انتہائی خوشی بیان فرمانے کے لیے ہے نہ کہ تشبیہ کے لیے کیونکہ رب تعالٰی غلطیوں اور خطا سے پاک ہے یعنی بندہ کی خوشی سے مت کٹ گئی وہ کہنا چاہتا تھا یارب میں تیرا بندہ تو میرا رب لیکن الٹا کہہ گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ خطاءً منہ سے کفر نکل جانے پر بندہ کا فر نہیں ہوتا نہ اس سے اس خطا کار کی بیوی نکاح سے خارج ہوکیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پرحکم کفر نہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن