دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم

۵؎   پہلا کذا نام بتانے کے لیے ہے اور دوسرا کذا بیان اوصاف کے لیے یعنی فلاں نام کی بستی جو فلاں طرف ہے جس میں اﷲ کے بہت نیک بندے رہتے ہیں تو وہاں جا اور فلاں سے مسئلہ پوچھ۔

۶؎  یعنی اس طرح گر کر مرا کہ اس کا چہرہ اور سینہ تو اس عالِم کی بستی کی طرف تھا جہاں جارہا تھا اور پیٹھ اس گناہوں کی بستی کی طرف جہاں سے آرہا تھا اﷲ تعالٰی کو اس کی یہ ادا پسند آگئی۔اس سےمعلوم ہوا کہ مسئلہ پوچھنے کے لیے عالموں کے پاس جانا عبادت ہے،نیز عالم کے شہرکی تعظیم اور اس طرف منہ کرکے سونا یا مرنا بھی رب تعالٰی کو پسند ہے۔سنت یہ ہے کہ مؤمن کعبہ کو منہ اور سینہ کرکے سوئے،میت کو کعبہ کے رخ دفن کرو،بعض عشاق مدینہ منورہ یا بغداد شریف کی طرف منہ کرکے دعائیں مانگتے ہیں، نماز غوثیہ میں بعد نماز گیارہ قدم بغداد شریف کی طرف منہ کرکے چلتے ہیں اور ادھر ہی منہ کرکے دعا مانگتے ہیں ان سب کی اصل یہ حدیث ہے،دیکھو اس شہر میں کعبہ یا بیت المقدس نہ تھا صرف ایک عالم کی بستی تھی جس کے ادب کی برکت سے بخشا گیا۔رب تعالٰی نے توبہ کرنے والے بنی اسرائیل سے فرمایا تھا"ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡاحِطَّۃٌ"اس نبیوں کے شہر میں سجدہ کرتے جاؤ اور وہاں ہم سے معافی مانگو۔

۷؎ یعنی یہ شخص بالکل بیچ میں تھا کہ اسے موت آگئی،اس کی روح کو لینے کے لیے رحمت کے فرشتے بھی آگئے اور عذاب کے بھی، عذاب والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ ہمارا ہے بڑے گناہ کرکے آیا تھا،رحمت والے فرشتے کہتے تھے کہ یہ ہمارا ہے توبہ کرنے جارہا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کے لیے رب تعالٰی کی طرف سے قانون مقرر کردیا گیاہے،کس قسم کی میت کو عذاب کے فرشتے لیں اور کس کو رحمت کے وہ اسی قانون کے تحت ہر میت تک پہنچ جاتے ہیں لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتے تو خدا کے حکم سے آتے ہیں یہاں رب تعالٰی نے دونوں قسم کے فرشتے بھیجے ہی کیوں لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ"کیونکہ وہاں امر سے مراد کلی امرہے جیسے رب تعالٰی نے ہم کو نمازوں وغیرہ کا کلی امر دے رکھا ہے۔

۸؎ یعنی اس کی موت بالکل درمیان میں واقع ہوئی تھی،رب تعالٰی نے ارادۂ توبہ کی وجہ سے اس کا اتنا احترام فرمایا کہ اس کی لاش کو اس بستی کی طرف نہ سرکایا بلکہ دونوں بستیوں کو حرکت دی کہ اس کو پیچھے ہٹایا اس کو آگے بڑھایا۔خیال رہے کہ رب تعالٰی جب بندے سے راضی ہوجائے تو اپنے حقوق تو خود معاف کردیتا ہے اور بندوں کے حقوق حق والوں سے معاف کرادیتا ہے۔اس موقعہ پربھی رب تعالٰی نے مقتولوں کو کچھ دے کر معاف کرادیا  لہذا حدیث پر نہ تو یہ اعتراض ہے کہ ظلمًا قتل حق العباد تھے بغیر بندوں کے معاف کئے اس کی بخشش کیسے ہوگئی اور نہ یہ کہ دو بستیوں کو کیوں ہٹایا لاش کو ہی کیوں نہ سرکادیا۔

2328 -[6]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو اﷲ تمہیں لے جائے اور ایسی قوم لائے جو گناہ کریں پھر معافی مانگیں تو اﷲ انہیں بخشے ۱؎ (مسلم)

۱؎ اس حدیث کا مقصد لوگوں کو گناہ پر دلیر کرنا نہیں بلکہ توبہ کی طرف مائل کرنا ہے یعنی اے انسانو! اگر تم بھی فرشتوں کی طرح سارے ہی معصوم بے گناہ ہوتے تو کوئی قوم ایسی پیدا کی جاتی جو غلطی و خطاء سے گناہ کرلیا کرتی پھر توبہ کرتی اسے رب تعالٰی معاف

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن